Wednesday, April 01, 2026
 

کراچی میں امن و امان کی صورت حال لندن اور نیویارک سے بہتر ہے، آئی جی سندھ

 



آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ لندن اور نیویارک سے زیادہ کراچی میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہے، کراچی میں ایک سال کے دوران 16500 موبائل چھنے جبکہ لندن میں 84 ہزار وارداتیں ہوئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں صنعتکاروں سے خطاب کے دوران کیا۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ رواں سال جنوری سے کچے کے علاقے میں "نجات مہران آپریشن" تیز کیا گیا جس کے باعث 32 ڈاکو مارے گئے، 100 سے زائد گرفتار ہوئے جبکہ 225 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دئیے۔اور کچے کے علاقے کو ڈاکوؤں سے مکمل پاک کردیا ہے جس کے بعد لوگ اہل خانہ کے ساتھ بلا خوف و خطر کچے کے علاقے میں سفر کر سکیں گے۔  آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے مزید کہا کہ اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ سال مارچ کے مقابلے رواں سال مارچ میں موٹرسائیکلیں چھیننے کے واقعات میں 54فیصد، گاڑیاں چھینے میں 48 فیصد، موبائل چھینے کے واقعات میں 35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔  انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک سال کے دوران 16 ہزار 500 موبائل چھیننے کے واقعات ہوئے، تاہم اگر دیگر ترقی یافتہ شہروں سے موازنہ کیا جائے تو لندن میں 84 ہزار واقعات ہوتے ہیں ، اس لحاظ سے کراچی میں امن و امان کی صورتحال لندن اور نیویارک جیسے شہروں سے بہتر ہے۔  جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ گن پوائنٹ پر اسنیچنگ کے دوارن قتل کے واقعات میں 88 فیصدتک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان اعدادو شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی میں جرائم کم ہورہے ہیں اور پولیس امن وامان قائم کرنے میں کامیاب ہوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر تعاون کے بغیر پولیس کامیاب نہیں ہوسکتی اس لئےضروری ہے کہ کراچی کے شہری اور عوام پولیس سے تعاون کرے۔  انہوں نے کہا کہ ٹریفک کی صورتحال کو بہتر کیا جارہا ہے، سیف سٹی پروجیکٹ دوسرے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جس میں چہرے شناخت کرنے والے کیمروں سمیت 2 ہزار 225 جدید اور ہائی ٹیک کیمرے نصب کئے جارہے ہیں۔ سڑکوں اور شاہراہوں پر روڈ سائن لگانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے پر ایف آئی آر درج کی جائیں گی تاکہ قانون کی بالادستی ہوسکے۔ جاوید عالم اوڈھو نے کہ کہا کہ تھانوں میں 100 موبائلز مرمت کرکے فعال کی جائیں گی۔  انہوں نے کہا کہ کاٹی کی درخواست پر کورنگی صنعتی علاقے کا احاطہ کرنے والے 4 تھانوں کو بھی موبائل ترجیحٰ  بنیاد پر دی جائیں گی، ٹاسک فورس کی کامیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے کاٹی کی تجویز پر آئی جی آفس میں ماہانہ بنیاد پر میٹنگز منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد ایک مسئلہ ہیں جن کی اکثریت جرائم میں ملوث ہوتے ہیں، ان افراد کے علاج کیلئے ری ہیب سینٹرز کو فعال کرنا انتہائی ضروری ہے،میری اپیل ہے کہ ہر ایسوسی ایشن اور ادارہ ایک ری ہیب سینٹر کی ذمہ داری اٹھائے تو شہر سے نشے کے عادی افراد کو علاج معالجے کی سہولت ملے گی جس سے نہ صرف وہ اچھے شہری بنیں گے بلکہ کراچی سے جرائم میں بھی خاطر خواہ کمی ہوگی۔  اس سے قبل کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ  سندھ پولیس نے دہشت گردی، جرائم اور بدامنی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ آج ہم ان تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ہمیں محفوظ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شہرِ قائد کو درپیش چیلنجز بہت پیچیدہ  ہیں، لیکن یہ امر باعث اطمینان ہے کہ آئی جی سندھ کی نگرانی میں پولیس فورس نہ صرف جرائم کے سدباب کے لیے سرگرم عمل ہے بلکہ صنعتکار برادری کے مسائل کے حل کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل