Thursday, April 02, 2026
 

اہداف کے حصول تک جنگ جاری رہے گی، اب ایران پر شدید حملے ہوں گے، ٹرمپ

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں شدت لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم ہوں گے اور فوجی کارروائیاں مزید تیز کی جا سکتی ہیں۔ امریکی عوام سے خطاب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایران کے اہم عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ان کے بقول آپریشن اپنے اہم مراحل طے کر چکا ہے اور اب اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کے اسٹریٹجک عزائم کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔  تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مکمل اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے ایران کی توانائی تنصیبات کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا۔ امریکی صدر نے ایرانی حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں عوامی مظاہروں کو طاقت سے کچلا گیا تاہم انہوں نے ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ خطاب کے دوران انہوں نے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک، جن میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین شامل ہیں، کے تحفظ کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ تیل کی عالمی منڈیوں پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اب توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہو چکا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کے تیل پر پہلے جیسا انحصار نہیں رہا۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا تاہم صورتحال جلد معمول پر آ سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جاری تنازع اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو رہا ہے اور جیسے ہی کشیدگی کم ہوگی اہم بحری گزرگاہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز، خود بخود بحال ہو جائیں گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل