Thursday, April 02, 2026
 

صدر ٹرمپ کی کہہ مکرنیاں!

 



دنیا کی واحد سپرپاور ہونے کے ناتے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جس قدر سنجیدہ، باوقار، دوراندیش، معاملہ فہم، بصیرت افروز ، صلح جو اور قائدانہ صلاحیتوں کا حامل قابل اعتبار اور لائق اعتماد شخصیت ہونا چاہیے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ صدر ٹرمپ کا شخصی کردار اس قدر تضادات کا مجموعہ ہے کہ ان کے قول و فعل پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرنا آسان نہیں ہے۔ ان کی کہہ مکرنیاں ذرائع ابلاغ بالخصوص سوشل میڈیا میں ایک مذاق بن جاتی ہیں جن سے ان کی شخصیت متنازع نظر آتی ہے۔ صدر ٹرمپ دو گھنٹے پہلے جو بات کرتے ہیں، دو گھنٹے بعد بالکل دوسری بات کرتے ہیں۔ ایران، امریکا ، اسرائیل جنگ کے حوالے سے آئے دن ان کے بدلتے ہوئے بیانات، فیصلوں اور اقدامات نے نہ صرف جنگ کو خوف ناک حد تک بڑھاوا دیا ہے بلکہ اس کے منفی اثرات سے پوری دنیا کا نظام زندگی اور معاشی ڈھانچہ بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ دنیا بھر کے مبصرین ، حربی ماہرین اور تجزیہ نگار اس بات پر پوری طرح متفق ہیں کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ورغلانے اور ایران کی ایک کمزور حیثیت اجاگر کرنے اور اس پر حملے کے بعد چار چھے دن میں رجیم کی تبدیلی اور وینزویلا کی طرح اپنی کٹھ پتلی حکومت کے قیام کا سبز باغ دکھانے کے باعث ایران پر حملہ کرکے ایک غیر دانشمندانہ فیصلہ کیا، یہی وجہ ہے کہ برطانیہ، فرانس اور یورپ اور امریکا کے نیٹو اتحادی بھی ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے سے آج بھی گریزاں ہیں۔ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے صدر ٹرمپ اپنے اتحادیوں کی بار بار منت سماجت کرتے رہے۔ ان سے اپیلیں کرتے رہے لیکن کسی ملک نے ان کا ساتھ نہ دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ یہ جنگ ہماری نہیں، ہم نے اسے شروع نہیں کیا۔ خود امریکا کے اندر حکومتی اور عوامی سطح پر صدر ٹرمپ کو ایران جنگ شروع کرنے پر سخت مخالفت اور تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ نیتن یاہو کو بھی اسرائیل کے اندر اور عالمی سطح پر شدید مخالفت اور کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ امریکا اور عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ایران کے خلاف جنگی اقدامات کے فیصلے کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے جو صدر ٹرمپ کے لیے یقیناً پریشانی اور شرمندگی کا باعث ہے۔ پوری دنیا میں ان کے خلاف عوامی سطح پر بڑے مظاہرے شروع ہوچکے ہیں۔ لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل کر اپنے غم و غصے کا اظہار کررہے ہیں۔ امریکا کی تقریباً تمام 150 ریاستوں میں ’’نوکنگز‘‘ ریلیاں منعقد کی گئیں جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں تیزی سے کمی آتی جارہی ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق ایران کے خلاف جنگی اقدامات پر صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت صرف 33فیصد رہ گئی ہے۔ 63 فیصد عوام نے ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کو مسترد کردیا ہے۔ سروے میں مہنگائی، بے روزگاری کے معاملے پر 71فیصد افراد نے ٹرمپ کی کارکردگی کو ناقص قرار دیا جب کہ2024 میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے 17فیصد افراد اب اپنے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔ عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نے ٹرمپ کی امیگریشن اور ٹیرف پالیسیوں پر بھی اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اس پس منظر میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران میں رجیم چینج کرنے کے لیے جنگ کا آغاز کیا لیکن اب یہی جنگ صدر ٹرمپ کے اقتدار کا سورج غروب کردے گی۔  صدر ٹرمپ بڑی تیزی سے اپنے بیانات، فیصلے اور اقدامات کو تبدیل کرنے اور حیران کن مطالبات کرنے اور اچانک موقف بدلنے میں ’’یکتائے زمانہ‘‘ ہیں۔ کبھی وہ جنگ کو چار چھے ہفتے میں ختم کرنے کی بات کرتے ہیں۔کبھی دو ماہ جاری رکھنے کا کہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ ہم نے ایران میں اپنے اہداف حاصل کرلیے اور کبھی کہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلوانے کا آپریشن بعد میں کریں گے۔ کبھی کہتے ہیں کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای قبول نہیں ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ ایران میں رجیم چینج ہوچکی اور نئی ایرانی قیادت معقول ہے۔ کبھی صدر ٹرمپ خلیجی ممالک کی تعریف کرتے ہیں کہ انھوں نے جنگ میں ان کا ساتھ دیا اور کبھی انھیں ہدف تنقید بناتے ہیں۔ ایک طرف جنگ ختم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں معاہدہ کرنے کے بھی آرزو مند ہیں تو دوسری طرف ایران پر مسلسل خوفناک حملے بھی کررہے ہیں اور مشرق وسطی میں زمینی فوج بھی بھیج رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اب ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے کہ وہ ایران جنگ کے اخراجات کی ادائیگی کے لیے عرب ملکوں سے مطالبہ کریں گے۔ غرض صدر ٹرمپ اپنی متضاد شخصیت کے اتنے روپ بدلتے ہیں اور ان کی مسلسل کہہ مکرنیاں ان کے کردار کو اس قدر متنازعہ بنا چکی ہیں کہ ان پر بھروسہ اور اعتبار کرنا آسان نہیں۔ ان کا تازہ فرمان نشر ہوا ہے کہ برطانیہ فرانس سمیت یورپی ممالک آبنائے ہرمز جاکر خود تیل لے آئیں، ہم کوئی مدد نہیں کریں گے ۔ ادھر پاکستان اور چین نے جنگ بندی اور بحران کے خاتمے کے لیے امن تجاویز دی ہیں۔ دیکھے صدر ٹرمپ کیا ردعمل دیتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل