Thursday, April 02, 2026
 

کفایت شعاری کا مذاق

 



ایران پر حملوں کے بعد پٹرولیم مصنوعات کے متوقع بحران کے پیش نظر حکومت نے ملک میں موجود آئل کی قیمت میں صرف پٹرول پر55روپے فی لیٹر کا بغیر کسی جواز کے اضافہ کیا تھا جب کہ عالمی سطح پر اضافہ بعد میں ہوا تھا ۔ عالمی سطح پر پٹرولیم بحران کے وقت سرکاری طور پر کہا گیا تھا کہ ملک میں فوری طور پر پٹرول اور ڈیزل کی قلت نہیں ہوگی اور ایک ماہ تک کوئی کمی واقع نہیں ہوگی مگر پٹرول پمپس ایسوسی ایشن نے حکومتی دعوے کے برعکس کہا تھا کہ پٹرول وافر مقدار میں موجود نہیں اور قلت کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے بعد لوگوں نے 55 روپے اضافے کے باوجود پٹرول ذخیرہ کرنا شروع کردیا تھا اور پمپس پر رش بڑھ گیا تھا۔ حکومت نے پٹرول کا استعمال کم کرنے کے لیے اسکول بندکرنے کا غیر متوقع اعلان کیا جب کہ پرائمری و مڈل اسکولوں کے امتحانات عید سے قبل مکمل ہوچکے تھے اور ہر سال رزلٹ آنے تک اسکولوں میں پڑھائی ویسے بھی نہیں ہوتی اور بورڈ کے امتحانات عید کے بعد ہی ہونے تھے مگر حکومت نے اسکول بندکرنے کا اعلان کیا جس پر عوامی تنقید بھی ہوئی۔ حکومت نے پٹرول بچت کے لیے سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں کمی اور سرکاری اداروں میں ہفتہ وار چھٹیاں دو سے بڑھاکر تین کردی تھیں اور دفتری اوقات میں بھی کمی کا اعلان کیا تھا جس سے سرکاری اداروں میں ایک روز کی چھٹی بڑھنے سے بجلی کی بچت کچھ ضرور ہوئی اور پٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں کوئی کمی نہیں ہوئی کیونکہ ایک چھٹی بڑھ جانے سے تفریح کا ایک دن اور بڑھ گیا اور رمضان میں افطاری سے سحری تک رات بھر ہوٹل کھلے تھے اور عید کی تیاری اور خریداری بھی ہونی تھی۔ اس شہر کے باہر کے ہوٹلوں میں گاہکوں کا رش بڑھا اور کراچی میں شہر کے باہر سپرہائی وے پر ہوٹلوںکی رونقیں اور بچوں کو تفریح فراہم کرنے والے ہوٹلوں کے باہر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں اور امیروں،گاڑیاں رکھنے والے متوسط طبقے والوں نے  کفایت شعاری کا ثبوت نہیں دیا اور زیادہ خرچ کیا۔ سرکاری گاڑیاں بھی عیدکے بعد تفریحی مقامات اور ہوٹلوں میں تہوار کی مناسبت سے زیادہ نظر آئیں۔ بچت مہم کی دھجیاں اڑائی گئیں اور پٹرول مہنگا ہی ہوا مگر قلت نہیں تھی اور سرکاری گاڑی رکھنے والوں نے پہلی بار اپنی جیب سے پٹرول خریدنے کو عار نہیں سمجھا اور اپنے بچوں کو دل کھول کر تفریح کرائی اور حسب معمول عید منائی۔ پٹرول مہنگا ہونے کا سب سے زیادہ اثر موٹرسائیکلیں استعمال کرنے والوں پر پڑا ہے کیونکہ ان کی آمدنی نہیں بڑھی مگر ان کی جیبوں پر بوجھ بڑھ گیا اور پٹرول مہنگا ہونے سے جو اخراجات بڑھے انھیں پورا کرنے کے لیے انھیں دیگر اخراجات کم کرنا پڑے۔ حکومت نے لگژری گاڑیوں کے لیے استعمال ہونے والے پٹرول پر دو سو روپے لیوی بڑھائی جو پہلے دس روپے تھی اور یہ پٹرول صرف لگژری گاڑیاں رکھنے والے ہی نہیں عام گاڑیاں رکھنے والے اور نئی موٹرسائیکلیں رکھنے والے بھی اس لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ عام پٹرول کے مقابلے میں ہائی اوکٹین پٹرول زیادہ ایورج دیتا ہے اور کسی حد تک بہتر بھی ہوتا ہے جس سے گاڑیاں بھی خراب نہیں ہوتیں جب کہ عام پٹرول میں ملاوٹ ہوتی ہے اور بہت کم ہی پٹرول پمپ ایسے ہیں جہاں پٹرول خالص اور مقدار پوری ملتی ہے اور اکثر پٹرول پمپ غیر معیاری پٹرول کے ساتھ مقدار بھی پوری نہیں دیتے اور صرف گاڑیوں کو معیاری پٹرول دیتے ہیں اور عوام کو لوٹنے والے پمپوں کی چیکنگ بہت کم یا برائے نام ہی ہوتی ہے۔  حکومت نے کفایت شعاری کے لیے مہمانوں کی تعداد کم اور ون ڈش کی پابندی عائد ضرور کی ہے جس پر میزبانوں نے کسی حد تک عمل ضرور کیا ہے اور اپنے مہمانوں کی تعداد کم کرکے شادیوں میں صرف ضروری عزیزوں کو مدعو کرنا شروع کیا ہے مگر مہمان ون ڈش پابندی میں بھی کھانا ضایع کرنے سے بعض نہیں آرہے جن کا میزبان کچھ بگاڑ سکتا ہے اور نا ہی ایسا کوئی قانون ہے کہ ایسے مہمانوں کو کھانا ضایع کرنے سے روکا جاسکے یا ان پر جرمانے ہوں یہ بھی عام دیکھاگیا ہے کہ تقریبات میں بچے کھانا زیادہ نکال لیتے ہیں جو ان سے کھایا نہیں جاتا اور پلیٹوں میں بچا کر ضایع کیا جاتا ہے مگر خود کھانا ضایع کرنے والے ان بچوں کے بڑے، بچوں کو کیسے سمجھا سکتے ہیں۔ شادیوں میں کھانے کو ضایع ہونے سے بچانے کے لیے حکومت کو اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور شادیوں میں کھانا بند کردینا چاہیے کیونکہ کھانے کو ضایع ہونے سے بچانے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ غریبوں کو دو وقت کا مفت کھانا کھلانے والے ادارے ہی کفایت شعاری پر شروع سے ہی عمل کررہے ہیں جو لوگوں کو ان کی پلیٹ میں زیادہ سالن اور چاول دیتے ہی نہیں جس سے کھانا ضایع نہیں ہوتا۔پٹرول کے عالمی بحران میں مہنگا پٹرول برداشت کرنے والے وہ ہی لوگ ہیں جنھیں اوپر کی آمدنی ہے اس لیے انھیں پیسے کی کوئی قدر نہیں کیونکہ یہ ان کی اوپر کی اور ناجائز کمائی ہوتی ہے اس لیے وہ کفایت شعاری ضروری نہیں سمجھتے اور محدود تنخواہ اور آمدنی میں گزارا کرنے والوں کو ہی اپنی کفایت شعاری کی خود ہی ضرورت ہے اور وہ از خود ہی کفایت کررہے ہیں کیونکہ انھیں پیسے کی قدر ہے انھوں نے سفر بھی محدود کردیا ہے۔ صرف ناجائز کمائی والے ہی کفایت شعاری کا مذاق اڑاتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل