Thursday, April 02, 2026
 

آبنائے ہرمز بحران، عالمی امن کو خطرہ

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے امریکا سے جنگ بند کرنے کا کہا ہے لیکن ہم اس پر تب غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلے گی،انھوں نے نیٹوکو کاغذی شیر قراردیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا کواس اتحاد سے نکالنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں،بہت جلد ایران جنگ سے بھی باہر آجائیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو ہم منتخب حملوں کے لیے واپس آئیں گے ۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے ذریعے ایران کو پیغام پہنچایا ہے کہ ٹرمپ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ امریکا کے مخصوص مطالبات پورے کیے جائیں۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ جنگ پر اپنا موقف تبدیل نہیں کروں گا،چاہے کتنا ہی دباؤ ہو، چاہے کتنا ہی شور ہو، میں برطانیہ کا وزیر اعظم ہوں اور مجھے اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلہ کرنا ہے ۔ جب کہ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس قوم کے دشمنوں کے لیے بند رہے گی‘ آبنائے ہرمز پر بحری دستوں کا مضبوط اور مکمل قبضہ ہے۔  مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آ کھڑا ہوا ہے، جہاں طاقت کے توازن، تاریخی دشمنیوں، مذہبی تضادات اور معاشی مفادات کا ایسا پیچیدہ امتزاج نظر آتا ہے جو کسی بھی لمحے ایک بڑے عالمی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خلیجی ممالک کی محتاط سفارت کاری، اسرائیل کی سرگرمیاں، اور عالمی طاقتوں کے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس تمام منظرنامے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف حالیہ واقعات کا جائزہ لیں بلکہ اس کے تاریخی، سیاسی، معاشی اور سفارتی پہلوؤں کو بھی گہرائی سے دیکھیں۔  حالیہ بیانات میں امریکی صدر کی جانب سے یہ دعویٰ کہ ایران جنگ بندی کا خواہاں ہے، جب کہ ایران اس کی سختی سے تردید کرتا ہے، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں فریق نہ صرف میدان جنگ میں بلکہ بیانیے کی جنگ میں بھی مصروف ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پس پردہ رابطے جاری ہیں اور بعض ثالثی کوششیں بھی سامنے آ رہی ہیں، جن میں پاکستان کا ممکنہ کردار بھی زیرِ بحث ہے، پاکستان کے لیے تو یہ ایک اہم سفارتی موقع ہو سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں توازن، غیر جانبداری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ وہ کسی بڑے تنازع کا حصہ بننے کے بجائے امن کے قیام میں معاون ثابت ہو سکے،اور پاکستان پہلے ہی ایسا کردار انتہائی سمجھ داری سے ادا کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کا معاملہ اس تنازعے کا ایک نہایت اہم پہلو ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا ذریعہ ہے، اور اس کی بندش عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے اس گزرگاہ پر کنٹرول کا دعویٰ اور اسے دشمنوں کے لیے بند رکھنے کا عندیہ دراصل ایک اسٹرٹیجک دباؤ ہے، جس کے ذریعے وہ عالمی طاقتوں کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف امریکا اور اس کے اتحادی اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ راستہ ہر صورت کھلا رہے، کیونکہ اس کا براہ راست تعلق عالمی توانائی کی سپلائی سے ہے۔ خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر، اس صورتحال میں نہایت نازک پوزیشن میں ہیں۔ ایک طرف ان کے امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جب کہ دوسری طرف وہ ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے بھی بچنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کی سفارت کاری محتاط اور متوازن نظر آتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ان ممالک کی جانب سے امن کی اپیلیں، تجارتی راستوں کے تحفظ پر زور اور جنگ سے دور رہنے کے اعلانات اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ بحرین کا یہ کہنا کہ وہ اس جنگ میں شامل نہیں ہوگا، اسی رجحان کی ایک واضح مثال ہے۔  اس تنازعے کا ایک اور اہم پہلو اسرائیل کا کردار ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ واقعات نے اسے مزید شدت دے دی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیاں اور ایران کی طرف سے جوابی حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تنازع کسی بھی وقت ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں تک پھیل سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس عارضی بہتری کو مستقل استحکام میں تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ایران کی جانب سے امریکی عوام کے نام خط اور اس میں پیش کیے گئے نکات بھی قابل توجہ ہیں۔ اس طرح کے اقدامات دراصل عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش ہوتے ہیں، جن کے ذریعے ایک فریق خود کو مظلوم اور دوسرے کو جارح ثابت کرنے کی سعی کرتا ہے۔ یہ بیانیہ سازی جدید جنگوں کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے، جہاں میڈیا، سوشل میڈیا اور سفارتی بیانات کے ذریعے رائے عامہ کو ہموار کیا جاتا ہے۔دوسری جانب عسکری میدان میں ہونے والی پیش رفت، جیسے میزائل حملے، ڈرون کارروائیاں، اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال محض بیانات تک محدود نہیں رہی۔ اگرچہ ابھی تک یہ کارروائیاں محدود پیمانے پر ہیں، مگر ان کا تسلسل ایک بڑے تصادم کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ یورپی ممالک کا کردار بھی اس صورتحال میں اہم ہے۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے ممالک ایک طرف امریکا کے اتحادی ہیں، مگر دوسری طرف وہ جنگ سے بچنے کے خواہاں بھی ہیں۔ ان ممالک کی کوشش ہے کہ سفارتی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اس بحران کو حل کیا جائے، مگر ان کی محدود اثراندازی اور داخلی سیاسی مسائل اس عمل کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی ذمے داری بھی اس وقت بڑھ جاتی ہے، اگرچہ ماضی میں ان اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، مگر موجودہ حالات میں ان کا فعال کردار نہایت ضروری ہے۔ جنگ بندی، مذاکرات اور انسانی امداد جیسے اقدامات کے ذریعے اس بحران کو کم کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ عالمی طاقتیں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔  معاشی لحاظ سے بھی یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال، سرمایہ کاری میں کمی اور تجارتی راستوں کی بندش جیسے عوامل عالمی معیشت کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، اس کا سب سے زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے اور اگر تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں یا ترسیل میں رکاوٹ آتی ہے تو اس کے اثرات مہنگائی، بجلی کی قیمتوں اور مجموعی اقتصادی استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنی داخلی معیشت کو مستحکم کرے بلکہ اپنی خارجہ پالیسی کو بھی ازسرِ نو ترتیب دے۔ اسے ایک فعال، متوازن اور اصولی کردار ادا کرنا ہوگا، جس میں وہ نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرے بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے بھی کوششیں جاری رکھے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، اس کے مسلم دنیا سے تعلقات، اور اس کی سفارتی تاریخ اسے ایک موثر ثالث بنا سکتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ طاقت کا استعمال وقتی نتائج دے سکتا ہے، مگر پائیدار امن صرف مذاکرات، باہمی احترام اور انصاف پر مبنی پالیسیوں کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کو اس وقت ایک اور جنگ کی نہیں بلکہ امن، استحکام اور تعاون کی ضرورت ہے، اگر عالمی قیادت اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بروقت اقدامات کرے تو نہ صرف ایک بڑے بحران کو ٹالا جا سکتا ہے بلکہ ایک بہتر اور مستحکم عالمی نظام کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں ہر فیصلہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ غلط اندازے، جذباتی ردعمل اور طاقت کے بے جا استعمال سے نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا ایک بڑے بحران میں مبتلا ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریق تحمل، دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کریں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل