Loading
بھارتی اداکار راجپال یادیو ایک بار پھر قانونی تنازع کے باعث خبروں میں آگئے ہیں، جہاں دہلی ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ایک مالی کیس کے دوران عدالت نے ان کے مؤقف پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یہ معاملہ ایک نجی کمپنی کی جانب سے دائر کردہ چیک باؤنس کیس سے متعلق ہے، جس میں 2024 میں اداکار کو واجبات کی عدم ادائیگی پر سزا بھی سنائی جا چکی تھی۔ عدالت نے اس کیس میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، تاہم سماعت کے دوران جج کے ریمارکس نے خاصی توجہ حاصل کی۔
سماعت کے دوران جسٹس سورنا کانتا شرما نے اداکار کے بدلتے بیانات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نرمی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ عدالت نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ایک جانب اداکار ادائیگی پر آمادگی ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ان کے وکیل مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ سزا پوری کرنے کے بعد مزید ادائیگی لازم نہیں۔
اس تضاد پر عدالت نے واضح کیا کہ اگر ادائیگی کے لیے رضامندی موجود ہے تو پھر تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ اداکار کی جانب سے مزید مہلت کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی، اور عدالت نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مزید وقت نہیں دیا جائے گا۔
یہ کیس مئی 2024 کے اُس فیصلے کے بعد شروع ہوا تھا جس میں سیشن عدالت نے راجپال یادیو کو چیک باؤنس کے جرم میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں ہائی کورٹ نے ادائیگی کی یقین دہانی پر سزا معطل کر دی تھی، تاہم عدالت کے مطابق بعد میں کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔
فروری 2026 میں عدم تعمیل پر عدالت نے اداکار کو خود پیش ہونے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے گرفتاری دی اور جزوی رقم جمع کروانے پر عارضی ریلیف حاصل کیا۔
حالیہ سماعت میں مدعی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا کاٹنے سے مالی ذمے داری ختم نہیں ہوتی۔ عدالت میں ون ٹائم سیٹلمنٹ پر بھی بات ہوئی، جبکہ اداکار نے یقین دہانی کروائی کہ وہ عدالت کے احکامات پر عمل کریں گے۔
فی الحال عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل