Loading
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے آبنائے ہرمز کی فوری بحالی سے متعلق قرارداد کی حمایت کردی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں آبنائے ہرمز سے متعلق مسودہ قرارداد پر ووٹنگ کے بعد پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر ان مشکل حالات میں برادر مملکت بحرین اور دیگر برادر خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سعودی عرب، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سلطنتِ عمان اردن کے ساتھ یکجہتی، غیر متزلزل حمایت اور مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ ممالک ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے فریق تو نہیں، مگر اس کے نتائج سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سیاسی آزادی اور سلامتی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ آبنائے ہرمز اشیا اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے، پاکستان جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی، شہری جہازوں کی تیز رفتار اور محفوظ آمد و رفت، اور آبنائے میں معمول کی بحری نقل و حرکت کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال دنیا بھر کے ممالک بشمول پاکستان پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے، علاقائی اور عالمی معیشت کے لیے اس کے نتائج واضح طور پر سخت اور سنگین ہیں، جبکہ عام پاکستانی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا جہاں دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی آباد ہے، اس صورتحال کا بوجھ اٹھا رہا ہے، آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے جدید تاریخ کے بڑے توانائی سپلائی جھٹکوں میں سے ایک کو جنم دیا ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ اس کے اثرات صرف توانائی کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ کھاد اور دیگر ضروری اشیاء تک بھی پھیل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں غذائی تحفظ متاثر ہو رہا ہے، مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور کمزور طبقات کی معاشی حالت مزید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ اگر فوجی کشیدگی اور رکاوٹیں برقرار رہیں تو یہ مشکلات خطے سے کہیں آگے بڑھ کر وسیع پیمانے پر معاشی بدحالی کا سبب بنیں گی۔
پاکستان نے کہا کہ مسودہ قرارداد پر بحرین کی انتھک محنت اور وسیع مشاورت پر ان کے شکر گزار ہیں، ہم صورتحال کی فوری نوعیت اور مسودہ قرارداد کے بنیادی مؤقف سے متفق ہیں، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا اور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ نہ صرف خلیجی تعاون کونسل کے ممالک بلکہ خطے اور اس سے باہر کے تمام ممالک، بشمول پاکستان، کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ یہ بھی منطقی امر ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی بحث یا انتظام میں جی سی سی ممالک کے جائز مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ بحرین کی جانب سے جی سی سی کی نمائندگی میں پیش کی گئی قرارداد 2817 کی حمایت کی تھی، اور ہم مسلسل اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ اس قرارداد پر حرف بہ حرف اور مکمل طور پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل