Loading
ہر سال عالمی ادارہ صحت کے یوم تاسیس یعنی 7 اپریل کو صحت کا عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن صحت کے حوالے سے آگاہی پھیلانے، مسائل کے حل کے لیے حکمت علمی بنانے اور عوام الناس میں صحت کی اہمیت کے حوالے سے شعور پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ روایت 1950 سے بلا تعطل چلی آرہی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے آئین کے مطابق صحت صرف بیماری یا کمزوری کے نہ ہونے کا ہی نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل جسمانی، ذہنی اور سماجی تندرستی و آسودگی کی حالت ہے۔
اچھی صحت بلا صنفی امتیاز، ہر انسان کا بنیادی حق ہے لیکن بدقسمتی سے گھریلو عورتوں کی ایک کثیر تعداد اس نعمت سے محروم رہتی ہے۔ شاید گھروں کو بخوبی جوڑنے اور سنبھالے رکھنے کی ہمہ وقت تگ و دو، اولاد کی ذمے داریوں، نسبتاً کم خود مختاری اور ناپسندیدہ رویوں پر دل ہی دل میں کڑھتے رہنے کی وجہ سے یہ اندر ہی اندر گھلتی رہتی ہیں اور جسمانی و ذہنی صحت کے مسائل سے دو چار ہوتی ہیں۔
مجھے بطور ماہر نفسیات اکثر و پیشتر گھریلو عورتوں کے ذہنی وجسمانی مسائل جاننے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ ملازمت پیشہ عورتوں کی نسبت، گھریلو عورتیں محدود قوت فیصلہ، کم اختیارات و آزادی، گھر بھر کی ذمے داریوں کے باعث اپنی صحت کا خیال نہیں رکھ پاتیں۔ لہٰذا صحت کے عالمی دن کے موقع پر میں ان کی صحت کے حوالے سے چند گزارشات قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہوں گی۔
عورت کو اللہ نے تخلیق و تعمیر کا استعارہ بنایا ہے۔ گھریلو عورت ہمارے معاشرے کی وہ بنیادی اکائی ہے جو سارے خاندان کو جوڑے رکھتی ہے۔ اگر وہ مسلسل ذہنی تناؤ کا شکار ہوگی تو اس کا اثر اس کی اپنی صحت کے ساتھ ساتھ پورے گھر پر پڑے گا۔
عالمی ادارہ صحت کی ایک تحقیق کے مطابق ہر 5 میں سے ایک عورت عام ذہنی مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ایک اور مستند رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یہ شرح تقریباً 38 فیصد ہے۔ 2023 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق دیہی عورتوں کی 60 فیصد تعداد عام ذہنی مسائل کا شکار ہے۔ یہ عام ذہنی مسائل مندرجہ ذیل ہیں۔
ڈپریشن: (Depression)
ڈپریشن کے عارضے میں عورتیں مسلسل اداسی، مایوسی اور ناامیدی محسوس کرتی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہر چیز سے دل ہی اوبھ گیا ہو۔ ہر وقت رونے کا دل کرتا ہے۔ عورت کو اپنا آپ ایک بے کار وجود محسوس ہوتا ہے، ایک خالی پن اور بے قدری کا احساس ہوتا ہے۔ ایسے میں انہیں بھرپور توجہ اور ہمت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
بے چینی: (Anxiety)
بے چینی ایک ایسی جذباتی کیفیت ہے جس میں ایک غیر حقیقی خوف اور گھبراہٹ سی محسوس ہوتی ہے، چاہے کوئی بھی خطرہ موجود ہی نہ ہو۔ اس میں دِل کی دھڑکن بھی تیز محسوس ہونے لگتی ہے اور نیند متاثر ہوتی ہے۔ اکثر یہ کیفیت ایک پینک اٹیک کا روپ بھی دھار سکتی ہے جس میں خوف کی لہریں جسم میں تیز تیز چلنے لگتی ہیں۔ اگر آپ اپنی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی میں یہ کیفیت دیکھیں تو فورا انہیں تحفظ اور مدد کا احساس دلائیں تاکہ خوف کم ہو۔
پوسٹ پارٹم ڈپریشن (زچگی کے بعد)
بچے کی پیدائش کے بعد اکثر عورتیں اداسی اور بے چینی کا شکار ہوجاتی ہیں، جسے بعد از زچگی ڈپریشن کہتے ہیں۔ بچے کی پیدائش کے بعد ہارمونز میں ہونے والی کمی، نئی ذمے داریوں کا احساس، تھکن، جسمانی کمزوری اور اکثر جذباتی سپورٹ کا نہ ملنا اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ یہ کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک طبی حالت ہے۔ ایسی حالت میں شوہر کا مثبت رویہ، محبت اور توجہ سے بہت جلدی بہتری محسوس ہوسکتی ہے۔
ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ گھریلو عورتوں کی جسمانی صحت بھی بے حد ضروری ہے۔ ایک عورت زندگی میں ماہواری، تھائرائیڈ کی خرابی، حمل، اسقاطِ حمل، زچگی، بعد از زچگی پیچیدگیوں اور مینوپاز جیسی بہت سی حیاتیاتی تبدیلیوں سے گزرتی ہے۔ مزید برآں بہت سے سماجی مسائل جیسے شوہر کی عدم توجہی و بے اعتناعی، تشدد، سسرالیوں کے رویے، طعنے، بے رخی وغیرہ بھی عورت کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں اور اس کی صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ ان عورتوں کی جسمانی صحت کے حوالے سے مندرجہ ذیل اقدام کیے جانے چاہئیں۔
1۔ ماہواری کے نظام کی بے ترتیبی کی وجہ سے عورتوں کی ایک بڑی تعداد انیمیا کا شکار ہوجاتی ہے۔ خون کی کمی کی وجہ سے کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے۔ اِس کی تشخیص کےلیے ضروری ہے کہ اپنے گھر کی خواتین کے ہر 3 سے 6 ماہ کے دوران ہیموگلوبین، سرخ خلیوں کا تناسب اور آئرن لیول باقاعدگی سے چیک کرواتے رہیں اور کم ہونے کی صورت میں ان کو کسی مستند ماہر امراض نسواں کے پاس لے جائیے۔
2۔ طویل المدتی نفسیاتی عوارض جیسے ڈپریشن، مسلسل گھبراہٹ کے حملوں کا اگرمناسب علاج نہ کیا جائے تو یہ بلڈ پریشر بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔ بلڈ پریشر ایک خاموش قاتل ہے جو اندر ہی اندر اپنی تباہ کاریوں کی وجہ سے دل کے عارضے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
3۔ بہت سی گھریلو عورتیں گھروں میں ذمے داری کے باعث اپنی غذایئت کا بھرپور خیال نہیں رکھ پاتیں۔ ان کی خوراک میں ایک مناسب مقدار پروٹین (انڈے، گوشت، دودھ، دہی)، آئرن (سرخ گوشت، کلیجی، سیب، انار)، وٹامن ڈی، فولک ایسڈ، وٹامن بی 12 اور کیلشیم کی ہونی چاہیے۔ غذایئت کی کمی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔ خاص طور پر حمل کے دوران ایک عورت کو اچھی خوراک اور خیال رکھے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماں کی صحت ہی ہونے والے بچے کی صحت کی ضامن ہوتی ہے۔ اس دورانیے میں متوازن غذا، ڈاکٹر سے باقاعدہ چیک اپ اور ذہنی سکون عورت کی صحت کےلیے بہت ضروری ہے۔
4۔ مینوپاز کے بعد اکثر عورتوں میں ایسٹروجن ہارمون کی کمی کی وجہ سے ہڈیاں کمزور اور بھربھری ہونے لگتی ہیں۔ اس حالت کو طبی زبان میں آسٹیوپوروسس کہتے ہیں۔ اگر آپ اپنے گھر کی عورتوں میں 45 سال کی عمر کے بعد اس طرح کی علامات دیکھیں تو ڈاکٹر سے ضرور چیک اپ کروائیں۔ آسٹیوپوروسس کی تشخیص کےلیے عموماً Dexa Scan (یعنی ہڈیوں کی کثافت کا ٹیسٹ) کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹرز کیلشیم اور وٹامن ڈی لینے کی ہدایت کرتے ہیں۔
5۔ بہت سی گھریلو عورتیں اپنے شوہروں کی طرف سے ہونے والے ذہنی و جسمانی تشدد کو چپ چاپ سہتی رہتی ہیں۔ میاں بیوی میں اختلافات ضرور ہوتے ہیں مگر ان اختلافات کو مکالمے اور حکمت سے حل کرلینا چاہیے۔ جسمانی تشدد ایک قابلِ گرفت جرم ہے اور پنجاب میں سرکاری سطح پر اس کے خلاف شکایات درج کروانے کے لئے پورٹل موجود ہیں۔
آخر میں صحت کے عالمی دن کی مناسبت سے یہی کہنا چاہوں گی کہ عورت چاہے ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو، بیٹی یا بہو ہو، ہر روپ میں باعث رحمت ہوتی ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ نے عورتوں کے ساتھ اچھے برتاؤ اور بھلائی کی تلقین فرمائی ہے۔ مردوں اور ملازمت پیشہ عورتوں کی نسبت گھریلو عورتوں کے پاس محدود آزادی، اختیارات اور قوت فیصلہ ہوتی ہے۔ ان میں سے اکثر گھر بھر کی ذمے داریوں و گھر کو جوڑے رکھنے کے سبب حکمت آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنی ذہنی و جسمانی صحت کا خیال نہیں رکھ پاتیں۔ ان کی صحت کا خیال رکھیے اور انہیں اس بات کا یقین دلایئے کہ کوئی ذمے داری یا کوئی کام ان کی صحت اور ذہنی سکون سے بڑھ کر نہیں ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل