Loading
ایک اردو یا اردو، پنجابی مکس کہاوت تو یہ ہے کہ جو ’’سوتے ‘‘ ہیں، وہ کھوتے ہیں لیکن پشتو کہاوت یہ ہے کہ جو سوتے ہیں، ان کی بھینسیں ہمیشہ ’’نر‘‘ کٹڑے دیتی ہیں اوراس کے پیچھے حکایت یہ ہے، جوہرکہاوت کے پیچھے ہوتی ہے ۔ اس حکایت اور کہاوت کا ہر کاشتکار اور زمیندار کو پتہ ہے ۔
یعنی جو سوتا ہے، وہ کھوتا ہے ، سے مراد یہ ہے کہ جو سست اور کاہل لوگ ہوتے ہیں، وہ محنت سے جی چراتے ہیں اور سارا دن سونے میں گزار دیتے ہیں، یوں وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ایسے ہی جو سوتاہے، اس کی بھینسیں یا گائیں ہمیشہ کٹڑا یا بچھڑا دیتی ہیں، سیدھی سی بات ہے کہ اگر بچھیایا کٹڑی ہوگی تو وہ آگے چل کر گائے یا بھینس بن جائے گی ، یوں کسان یا زمیندار کے گھر میں تازہ دودھ، مکھن، گھی اور دہی وافر ہوگا، گوبر سے اوپلے بنیں گے جو بطور ایندھن استعمال ہوں یا کھیتوں میں بطور کھاد لیکن کٹڑوں یا بچھڑوں کی منزل قصائی ہوگا جو اسے ذبح کرکے بطور گوشت انسانوں کو کھلا دے گا۔
آپ تو جانتے ہیں اورآپ سے زیادہ اورکون جان سکتا ہے کہ پاکستان ’’موجدوں‘‘ کی سرزمین ہے، یہاں وہ وہ ایجادیں ہوتی ہیں کہ اگر آئن سٹائن زندہ ہوتا تو وہ بھی آکر ان کے آگے ’’زنوائے تلمذ‘‘ تہہ کردیتا اورگزارش کرتا کہ اساتذہ کرام مجھے اپنی شاگردی میں قبول کرلیئجے۔یہ چیز تو آپ نے پڑھ لی ہوگی، اگر نہیں پڑھی تو ہم سنائے دیتے ہیں قند مکرر کے طورپر کہ
پشاور میں کٹڑوں کے گوشت کو ’’چھوٹا گوشت‘‘ بنا کر بیجنے والے دوکان دار قصاب گرفتار۔ پشاور میں کٹڑوں کے گوشت کو بکرے کا گوشت بنا کر فروخت کر دیا جاتا ہے جب کہ مختلف کڑاہی گوشت رستورانوں اور ہوٹلوں کو بھی سپلائی ہوتا ہے ، خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں پہلے بھی کئی بار ایسے لوگ پکڑے جاچکے ہیں لیکن آپ کو تو معلوم ہے کہ یہاں لوگ تو پکڑے جاتے ہیں لیکن ’’کاروبار‘‘ ہمیشہ جاری رہتے ہیں بلکہ پکڑ دھکڑ سے کاروبار میں اورتیزی آجاتی ہے کہ ’’ساجھے دار‘‘ بڑھ جاتے ہیں ۔
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
اشرف المخلوقات، حیوان اعلیٰ، خلیفۃ الارض عرف حضرت انسان اورنہ جانے کیا کچھ کرتا ہے ۔ اب پتہ نہیں کہ ان جانوروں کو باقاعدہ ’’ذبح‘‘ بھی کیا جاتا ہے یا نہیں ؟کیونکہ جانور درست طریقے سے ذبح کرنے کے لیے عام طورکچھ خاص الفاظ اداکیے جاتے ہیں، مثلاً بسم اللہ ، اللہ اکبر۔ رب جلیل نے فرمایا ہے کہ تم ہرکام شروع کرتے ہوئے میرا نام یعنی بسم اللہ پڑھاکرو ،اگر صرف اس بسم اللہ پر انسان کاربند ہوجائے تو پورا دین مکمل ہوجاتا ہے ، اس کوزے میں سمندر یہ ہے کہ جب ہم کوئی کام شروع کریں گے اوربسم اللہ سے ابتداء کریں گے تو لازم ہے کہ اس کام پر ہماری توجہ ہوگی کہ یہ کام کیا ہے ۔ کیا وہ کام کہیں ایسا تو نہیں ہے جس کی ممانعت ہو، جو گناہ ہو، یااللہ کا ناپسندیدہ ہو ۔اب اگر ایک کام کی بنیاد جھوٹ پر ہے یعنی گوشت بڑا ہے اور اسے چھوٹا بنا کر یا کہہ کر فروخت یا سپلائی کیا جاتا ہے تو اس پر اگر تکبیر پڑھ بھی لی تو کیا فروخت کرنے والے ، ذبح کرنے والے اور سپلائی کرنے والے کا کام جائز ہوجائے گا؟اس لیے ہمارے ذہن میں فوراً یہ آئے گا کہ یہ کام غلط ہے ، جرم ہے۔ اب ذرا دھونڈیئے ! سوتا کون ہے اور کھوتا کون ہے؟
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل