Loading
ٹیکنالوجی کمپنی میٹا میں کام کرنے والا ایک سابق ملازم فیس بک سے نجی تصاویر ڈاؤن لوڈ کرنے کے الزام پر تحقیقات کا سامنا کر رہا ہے۔
لندن سے تعلق رکھنے والے اس انجینئر پر الزام ہے کہ اس نے ایسا پروگرام ڈیزائن کیا تھا جس سے پلیٹ فارم کے سیکیورٹی چیکس کو بائی پاس کر کے وہ لوگوں کی نجی تصاویر تک رسائی حاصل کر سکتا تھا۔
میٹروپولیٹن کے سائبر کرائم یونٹ کے ایک اسپیشلسٹ سراغ رساں نے فیس بک صارفین کی پرائیویسی کی اس مبینہ خلاف ورزی کے حوالے سے انکوائری شروع کردی ہے۔
میٹا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ خلاف ورزی ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل سامنے آئی تھی، جس کے بعد کمپنی نے معاملہ برطانیہ میں پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔
ٹیکنالوجی کمپنی نے مزید بتایا کہ فیس بک صارفین کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ ملزم کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے اور پلیٹ فارم کے سیکیورٹی سسٹمز کو اپ گریڈ کر دیا گیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل