Loading
رات کو پرسکون نیند نہ آنا اب ایک عام مسئلہ بن چکا ہے، جس سے نجات کے لیے لوگ مختلف طریقے آزماتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں ایک سادہ گھریلو مشروب، یعنی کیلا چائے، نیند کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
کیلا چائے دراصل کیلے کو پانی میں اُبال کر تیار کی جانے والی ایک قدرتی ڈرنک ہے، جس میں ہلکی سی مٹھاس بھی ہوتی ہے۔ یہ نہ صرف آسانی سے گھر میں بنائی جاسکتی ہے بلکہ اس میں موجود غذائی اجزا جسم کو سکون پہنچانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلے میں پائے جانے والے ٹرپٹوفین، میگنیشیم اور پوٹاشیم جیسے عناصر ممکنہ طور پر ذہنی سکون اور بہتر نیند میں مدد دیتے ہیں، اور یہی اجزاء چائے میں بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ اس مشروب پر براہِ راست سائنسی تحقیق محدود ہے، تاہم ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سونے سے پہلے کیفین سے پاک گرم مشروبات کا استعمال جسم کو آرام دینے اور نیند کی تیاری میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیلا چائے کو بھی ایک مفید متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کیلا چائے بنانے کا سادہ طریقہ
ایک کیلا لے کر اسے چھیلیں اور تین سے چار ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ اب اسے تقریباً تین کپ پانی میں ڈال کر 3 سے 5 منٹ تک اُبالیں۔ اس کے بعد کیلے کے ٹکڑے نکال کر چائے کو کپ میں ڈالیں اور گرم گرم استعمال کریں۔
چھلکے سمیت کیلا چائے بنانے کا طریقہ
اگر آپ مزید غذائیت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کیلا چھلکے سمیت بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے آرگینک کیلا بہتر رہتا ہے۔ کیلے کو اچھی طرح دھو کر اس کے دونوں کنارے کاٹ دیں اور آدھا کرکے پانی میں 3 سے 5 منٹ تک اُبالیں۔ بعد ازاں چائے کو چھان کر پی لیں۔
کیلے کے خشک چھلکوں سے چائے بنانے کا طریقہ
کیلے کے چھلکوں کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر خشک کر لیں، چاہے اوون میں کم درجہ حرارت پر یا فوڈ ڈی ہائیڈریٹر کے ذریعے۔ پھر ایک سے دو کھانے کے چمچ خشک چھلکے دو سے تین کپ پانی میں ڈال کر اُبالیں اور چھان کر استعمال کریں۔
ذائقے میں مزید بہتری کے لیے اس چائے میں دارچینی، جائفل یا شہد شامل کیا جا سکتا ہے، جبکہ اسے کچھ زیادہ دیر تک اُبال کر گاڑھا بھی بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس مشروب کو روزمرہ روٹین کا حصہ بنا لیا جائے تو یہ نہ صرف ذہنی سکون فراہم کرتا ہے بلکہ نیند کے مسائل میں بھی قدرتی طور پر مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل