Thursday, April 09, 2026
 

خلیجی ممالک کے مسائل

 



خلیجی ممالک میں صرف یو اے ای واحد ریاست ہے جس کا ایران سے سرحدی تنازعہ ہے مگر امریکا کی وجہ سے ان کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہو چکے ہیں ۔ سعودیہ کے سوا تمام ریاستیں چھوٹی ہیں جہاں ان کی فوجیں برائے نام ہیں مگر یہ ریاستیں آئل، گیس و قدرتی وسائل سے مالا مال اور تمام انتہائی دولت مند ریاستوں میں شمار ہوتی ہیں جن میں امارات بڑی ریاست اور دبئی امارات میں اہمیت کا حامل ہے اور دبئی ان سب میں سب سے اہم تفریحی اور تجارتی شہر ہے جہاں ہر ماہ دنیا بھر سے لاکھوں سیاح ، تاجر، صنعتکار اور ٹیکنوکریٹس آتے ہیں اور دبئی میں آبادی میں مقامی عرب اور غیر ممالک جن میں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگ مختلف کاروبار کررہے ہیں اور زیادہ تر دکانوں میں اردو بولنے والے گاہکوں سے معاملات طے کرتے ہیں اور روزانہ دنیا بھر سے بڑی تعداد میں فلائٹس دبئی آتی جاتی ہیں اور دبئی کا خوب صورت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دن رات فلائٹس آتی جاتی ہیں، جن کا وہاں رش رہتا ہے اور پاکستان سے ایمریٹس کے تمام ہوائی جہاز پہلے دبئی آتے ہیں جہاں مسافروں کو سعودیہ سمیت دنیا بھر میں کہیں جانے کے لیے دبئی کچھ گھنٹے گزارنا پڑتے ہیں اور اپنی فلائٹس کے انتظار تک انھیں کھانا پینا اور شاپنگ کرنا پڑتی ہے اور دبئی ایئرپورٹ پر روزانہ کروڑوں درہم کا کاروبار ہوتا ہے۔  ایران کا امارات کے علاوہ کسی خلیجی ریاست عراق اور سعودی عرب سے مسلکی اختلاف کے سوا کوئی اختلاف نہیں اور عراق کا ایک حصہ امریکا کے زیر کنٹرول اور دوسرا ایران کا حامی ہے اور ایرانی بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں مگر امارات کے سوا کسی بھی ملک نے موجودہ جنگ میں ایرانیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے مگر اس کی ابتدا ہوچکی ہے۔ بحرین خلیجی ممالک میں امارات کے مقابلے میں چھوٹی مگر مالدار ریاست ہے جو موجودہ جنگ میں ایران کے ہاتھوں نقصان بھی اٹھا رہے ہیں۔ ویسے تو خلیجی ریاستوں کے علاوہ ایرانی حملوں سے سعودی عرب اور عراق میں جانی کم اور مالی نقصان زیادہ ہوا ہے مگر سعودی عرب، کویت ، عمان ، قطر و دیگر خلیجی ممالک صرف ایرانی حملوں میں اپنا دفاع کررہے ہیں اور بڑی سمجھ داری سے امریکا کے ایران پر حملوں میں فریق بن رہے ہیں نہ ان حملوں کی حمایت کررہے ہیں تاکہ علاقہ کی صورت حال مزید خراب نہ ہو اور یہ ممالک جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں کیوں کہ ان کا بھی مالی نقصان ہورہا ہے اور یہ سب تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں مگر اب یو اے ای اور بحرین ایسا نہیں کررہے بلکہ ایران مخالف گروپ میں شامل ہیں ۔  سعودی عرب، عراق اور خلیجی ممالک میں ایران امریکی اڈوں پر حملہ کرتا رہا ہے جہاں سے امریکا ایران پر ہر طرف سے حملے کررہا ہے جب کہ اسرائیل سے بھی ایران پر خوفناک حملے چالیس دنوں میں کیے گئے ہیں۔ ایران ان ممالک میں امریکی اہداف کو نشانہ اس بنیاد پر بنارہا ہے کہ ایران کا ان ممالک سے کوئی بھی تنازعہ نہیں مگر ان ممالک میں عشروں سے قائم امریکی اڈوں سے حملے ایران پر ہورہے ہیں، اس لیے ایران نے بھی پہلے ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جس سے امریکا کا نقصان ہوا، دیگر ممالک پر ایران نے حملے نہیں کیے مگر ایرانی حملوں میں امارات زیادہ نشانہ بنا اور دنیا کا اہم تفریحی و کاروباری شہر دبئی سب سے زیادہ اور بہت بری طرح متاثر ہوا ہے جس کی سیاحت مکمل طور پر ختم ہوئی۔ دنیا سے سیاحوں نے دبئی آنا چھوڑا اور جو غیر ملکی وہاں رہ رہے تھے انھوں نے جان بچانے کے لیے بڑی تعداد میں دبئی چھوڑا۔ دبئی سے نکلنے والوں کی لمبی لمبی قطاریں لگیں اور رمضان میں پھنسے ہوئے راقم کے ایک دوست کے مطابق وہ بمشکل 6 لاکھ روپے کا ٹکٹ لے کر وطن واپس آیا جس کے پاس ایمریٹس سے واپسی کا ریٹرن ٹکٹ تھا مگر ایمرٹس نے اپنی فلائٹس بند کرکے واپسی ٹکٹ کی رقم واپس کردی تھی ۔ دبئی کی کشیدہ صورت حال کے باعث بڑی تعداد میں پاکستانی عیدالفطر پر وطن بھی نہیں آسکے اور انھیں اپنے خاندانوں سے دور رہ کر امارات میں عید منانا پڑی۔ خلیجی ریاستوں میں زیادہ تعداد پاکستانیوں سمیت غیر ملکیوں کی ہے جن کا ایرانی حملوں میں جانی نقصان ہوا مگر امارات کا مالی نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے عالمی جنگی اصولوں کو پامال کرکے ایران کا بہت زیادہ مالی اور جانی نقصان ہی نہیں کیا بلکہ ایران میں اسکول، اسپتال ، لیباٹریز اور طبی اداروں پر حملے کیے جس کے جواب میں ایران نے بھی ایسے ہی جوابی حملے کیے جن کا ذمے دار ایران خود کو نہیں سمجھتا۔ تیل و گیس کی دولت سے مالا مال ان خلیجی ممالک کو اتنی طویل جنگ کی توقع تھی نہ اپنے نقصان کا اندازہ تھا اور امریکا کے اڈے ختم کرنے کے لیے ایران انھیں کہتا بھی رہا مگر وہ سمجھتے رہے کہ کسی بھی مشکل میں امریکا انھیں تحفظ دے گا اور امریکی اڈے اور تحفظ ان کی مجبوری تھی مگر امریکا نے اربوں ڈالر ان تمام ممالک سے بٹورے اور جنگ میں انھیں تنہا چھوڑ کر ثابت کردیا کہ وہ ان ممالک کی حفاظت سے نہیں ان کے مال میں دلچسپی رکھتا ہے اور یہ ممالک مجبور ہیں جو امریکا کو نگل سکتے ہیں نہ اگل سکتے ہیں اور امریکی اڈے ختم کرانے کی پوزیشن میں نہیں اور یہی مجبوری انھیں ایرانی حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل