Loading
اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری طویل اور اہم مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک مختصر پریس بریفنگ دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ 21 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات میں مختلف اہم امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، تاہم کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی وفد اب واشنگٹن واپس جائے گا جہاں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مذاکرات کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔
انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس عمل میں اہم اور مثبت کردار ادا کیا۔
جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے مذاکرات کے دوران بھرپور لچک اور نیک نیتی کا مظاہرہ کیا، جبکہ ایران کے سامنے اپنی ریڈ لائنز بھی واضح کر دیں۔
ان کے مطابق امریکی وفد نے ایرانی حکام کو ایک بہترین پیشکش دی تاہم معاہدے تک نہ پہنچنا ایران کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ کن نکات پر اتفاق ممکن ہے اور کن پر نہیں اور ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان شرائط کو تسلیم کرے۔
امریکی نائب صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران واضح یقین دہانی کرائے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کرے گا جو اس پورے مذاکراتی عمل کا ایک مرکزی نکتہ رہا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پریس بریفنگ کے فوری بعد امریکا کے لیے روانہ ہو گئے ہیں ایئرپورٹ پر انہیں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے رخصت کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل