Loading
واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’کمزور اور خطرناک‘ شخصیت قرار دیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر نئی بحث چھڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پوپ لیو کے بڑے مداح نہیں ہیں۔ ان کے مطابق پوپ جرائم کے معاملات میں کمزور جبکہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے انتہائی ناقص مؤقف رکھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر ایران کے حوالے سے بھی سخت مؤقف دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان 21 گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، تاہم انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتا ہے یا نہیں۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس روس اور سعودی عرب سے زیادہ تیل کے ذخائر موجود ہیں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری ہے، جس کے باعث ایران عالمی منڈی میں اپنا تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی فوجی اور بحری طاقت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کے متعدد جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں اور ایران اس وقت مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات نہ صرف ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں بلکہ مذہبی اور سفارتی سطح پر بھی نئی بحث کو جنم دے سکتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل