Loading
لاہور: پنجاب میں ریلوے ٹرانسپورٹ کے نئے عہد کا آغاز ہوگیا، حکومت پنجاب اور پاکستان ریلوے کے درمیان تاریخ ساز قرارداد مفاہمت طے پاگئی جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وزیرریلوے حنیف عباسی نے ایم او یو پر دستخط کردئیے۔
اس منصوبے کے تحت لاہور سے راولپنڈی پاکستان کی پہلی فاسٹ ٹرین چلائی جائے گی جو سوا دو گھنٹے میں 280 کلومیٹر کا سفر طے کرے گی، جبکہ پنجاب کے 20 ریجنز میں 8 لوکل روٹس پر مجموعی طور پر 1415 کلومیٹر طویل نیٹ ورک قائم کیا جائے گا اور جدید ترین ٹرینیں چلائی جائیں گی۔
حکومت پنجاب علاقائی روٹس پر جدید ڈی ایم یو ٹرینیں فراہم کرے گی، منصوبے میں شاہدرہ تا نارووال، نارووال تا سیالکوٹ، رائیونڈ، قصور، پاکپتن تا لودھراں، شیخوپورہ، جڑانوالہ، شورکوٹ، لالہ موسیٰ، ملکوال، سرگودھا، فیصل آباد اور کوٹ ادو تا ڈیرہ غازی خان، کشمور تک بین الصوبائی روٹس شامل ہیں۔
منصوبے کے تحت نئے ریلوے انجن اور جدید کوچز بھی متعارف کروائی جائیں گی جبکہ ریلوے اسٹیشنز کی بیوٹیفکیشن، عالمی معیار کی پارکنگ، ریلوے حادثات کے سدباب کیلئے خودکار نظام اور ٹریک کے اطراف گرین پارکس و شجرکاری بھی کی جائے گی۔
وفاقی وزیرریلوے حنیف عباسی نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو منصوبے کے اجراء پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کی معاونت سے 9 روٹس پر تقریباً 9 کروڑ افراد مستفید ہوں گے اور پنجاب کے عوام کو یورپ کے معیار کے مطابق سفری سہولت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اس پراجیکٹ کو لیڈ اور سپروائز کریں گی، ان کی قیادت میں پنجاب میں ہیلتھ، ایجوکیشن، آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں، اور ریلوے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی بہتری لائی جارہی ہے۔
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ لاہور سے راولپنڈی سفر سوا دو گھنٹے میں مکمل ہوگا جبکہ ریلوے ٹریک کے اطراف چار لاکھ سے زائد پودے لگائے جائیں گے اور شاہدرہ سے رائیونڈ تک گرین پارکس بنائے جائیں گے، وزیراعلیٰ سے پراجیکٹ کی خود نگرانی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل