Loading
امریکا کی معروف تعلیمی درسگاہ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر اور عالمی شہرت یافتہ ماہرِ معاشیات جیفری سکس نے ایران سے متعلق کشیدگی، ناکام سفارتی مذاکرات اور امریکی پالیسی سازی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق جیفری سکس کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کسی منظم یا گہری حکمت عملی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں واضح طور پر افراتفری اور غیر شفافیت نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسی سازی اس وقت غیر متوازن اور بے ترتیب دکھائی دیتی ہے۔
پروفیسر سکس نے امریکی صدر ٹرمپ کے رویے اور بیانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فیصلے کسی ریاستی حکمت عملی کے بجائے ایک فرد کے گرد گھوم رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ صورتحال ’ون مین شو‘ بن چکی ہے، جہاں دھمکی، دباؤ اور طاقت کے استعمال کو کامیابی کا ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ دھمکیوں، مطالبات اور حتیٰ کہ طاقت کے استعمال کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں، تاہم یہ سوچ حقیقت سے زیادہ ایک فریب معلوم ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ عمل میں تسلسل کے بجائے بے یقینی اور انتشار پایا جاتا ہے۔
جیفری سکس نے صدر ٹرمپ کی ذہنی کیفیت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹس اور بیانات غیر معمولی ہیں اور امریکی تاریخ میں اس نوعیت کی زبان اور انداز کم ہی دیکھنے کو ملا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان پوسٹس کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے صدر کا توازن متاثر ہو چکا ہو۔
پروفیسر سکس کے مطابق موجودہ حالات میں امریکا کی پالیسی ایک واضح سمت سے محروم دکھائی دیتی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر بھی بے چینی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل