Loading
عدالت نے دہشت گردوں کی معاونت کے لیے سونا اسمگلنگ کیس میں دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کا حکم دے دیا۔
انسداد دہشتگردی پشاور کی خصوصی عدالت کی جج فرید خان علیزئی نے مبینہ طور پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے افغانستان کو بھاری مقدار میں سونا اسمگل کرنے کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے دہشتگردی کی دفعات ختم کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے کیس کو ضلع خیبر کی سیشن کورٹ منتقل کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
پراسیکیوشن کے مطابق گزشتہ سال بڑے پیمانے پر سونا افغانستان اسمگل کرنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی، جس پر پشاور اور ضلع خیبر سے 19 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا اور ان کے خلاف انسداد دہشتگردی عدالت میں مقدمہ زیر سماعت تھا۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مقدمے میں انسداد دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں حالانکہ یہ ایک سادہ نوعیت کا اسمگلنگ کیس ہے اور اسے دہشتگردی کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا، لہٰذا ان دفعات کو ختم کیا جائے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے مقدمے سے انسداد دہشتگردی کی دفعات ختم کر دیں اور کیس کو مزید سماعت کے لیے سیشن کورٹ خیبر کو ارسال کر دیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل