Saturday, April 18, 2026
 

بچوں میں ایڈز کے تیزی سے بڑھتے کیسز؛ شعبہ صحت کی سنگین غفلت،اہم انکشافات

 



ملک میں بچوں کے حوالے سے ایڈز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز میں شعبہ صحت کی سنگین غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔ ایڈز کے بڑھتے کیسز کے تناظر میں سابق وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک میں صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ فلم میں ضلع تونسہ کے واقعات کو دکھایا گیا، جہاں تحصیل ہیڈ کوارٹر تونسہ میں کم عمر بچوں میں ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص ہوئی اور 60 سے 70 بچوں میں اس مرض کی موجودگی سامنے آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مجرمانہ نوعیت کی طبی غفلت کا نتیجہ ہے جہاں 20، 20 بچوں کو ایک ہی سرنج کے ذریعے ٹیکے لگائے گئے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اس معاملے کو کسی ایک حکومت سے جوڑنا درست نہیں بلکہ یہ پاکستان کی اجتماعی ناکامی ہے۔ 2 سے 5 سال کے ایسے بچوں میں ایڈز کی تشخیص ہوئی جن کے والدین اس مرض میں مبتلا نہیں تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ استعمال شدہ سرنج کو دوبارہ استعمال کرنے سے یہ بیماری پھیلتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف پنجاب تک محدود نہیں بلکہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ کراچی کے ایک اسپتال میں تقریباً 100 بچوں میں ایڈز مثبت آیا جبکہ اخبارات کے مطابق اسلام آباد میں 15 ماہ کے دوران 618 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔  انڈس اسپتال کراچی میں 2024 کے دوران 10 بچے ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے جب کہ رواں سال 25 بچوں میں اس مرض کی تشخیص ہو چکی ہے۔ انہوں نے عالمی ادارہ صحت کے حوالے سے کہا کہ ایشیا میں ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کی رفتار پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق پاکستان میں خون کی منتقلی کے دوران 70 فیصد اسکریننگ نہیں کی جاتی، حالانکہ اگر مناسب اسکریننگ ہو تو آلودہ خون کے ذریعے اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں تقریباً ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس کی بڑی وجوہات بھی استعمال شدہ سرنج کا دوبارہ استعمال اور خون کی اسکریننگ کا فقدان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحت کے شعبے کو کبھی ترجیح نہیں دی گئی ۔ موجودہ اعداد و شمار ایک بڑی وبا کے خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے صحت کے شعبے سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ طے شدہ اصولوں پر عمل کریں جبکہ عوام کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں۔ انہوں نے تونسہ واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی حکومتی کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے کہا کہ ایڈز سے متاثرہ بچوں کے والدین کا سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا ان کا بچہ زندہ رہے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2008 سے 2009 کے دوران جلال پور جٹاں میں 150 افراد ایڈز سے متاثر پائے گئے تھے ۔ ایسے واقعات دیگر علاقوں میں بھی وبائی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کسی اسپتال میں ایڈز سے متعلق باقاعدہ شعبہ موجود نہیں ہے۔ نجی ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر اصغر ستی نے کہا کہ ایڈز سے متاثرہ افراد کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ اس بیماری کے پھیلاؤ کو کردار کی خرابی کے بجائے ہیلتھ سیکٹر کی ناکامی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ پریس کانفرنس میں ایڈز سے متاثرہ خاتون نیئر مجید نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 30 برس سے اس داغ کو برداشت کر رہی ہیں اور ایک ماں ہونے کے باوجود انہیں شدید سماجی رویوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مریض جسے پتے کی تکلیف تھی، اس کے ایچ آئی وی متاثرہ ہونے کی وجہ سے کوئی ڈاکٹر آپریشن کے لیے تیار نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھتی ہیں اور مختلف الزامات کا سامنا کرتی رہی ہیں جبکہ گزشتہ 22 سال سے علاج جاری رکھے ہوئے ہیں، اس کے باوجود معاشرے میں نفرت کا سامنا ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید بتایا کہ اندازوں کے مطابق پاکستان میں اس وقت 3 لاکھ 70 ہزار افراد ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہیں جن میں سے صرف 21 فیصد کو اپنے مرض کا علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد میں سے 84 فیصد کو علاج کی سہولت میسر نہیں جبکہ صرف 16 فیصد مریضوں کو علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل