Monday, April 20, 2026
 

افغان نائب وزیر اعظم کا نام عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل

 



طالبان رجیم پرعالمی برداری کااعتمادمکمل طورپر ختم ہوگیا ہے۔ امریکی تحقیقاتی ادارےمڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کےمطابق طالبان رجیم کے تقریباً 55 ارکان اورعہدیداروں کےالقاعدہ سےاب بھی بلاواسطہ اوربالواسطہ تعلقات قائم ہیں۔ افغان میڈیا افغانستان انٹرنیشنل کےمطابق طالبان کی33رکنی کابینہ میں سے13سے14ارکان اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ افغان عبوری وزیراعظم ملامحمدحسن اخونداورنائب وزریراعظم کےنام عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں، افغان عبوری وزیرداخلہ سراج الدین حقانی،وزیرخارجہ امیرخان متقی اوردیگرکئی وزراء بھی فہرست کاحصہ ہیں۔ افغان رہنماؤں کےاثاثےمنجمد کرنےکےعلاوہ سفری اوراسلحہ کی خریداری کی پابندیاں عائد ہیں، پابندیوں کی موجودہ فہرست میں طالبان سےوابستہ مجموعی طور پر 135 افراد اور 5 اداروں کے نام بھی شامل ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل