Sunday, April 19, 2026
 

آبنائے ہرمز بدستور بند، امریکا کے ساتھ مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں ہے، ایران کا اعلان

 



مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جبکہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ نئے مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ انہوں نے واشنگٹن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنی سخت اور یکطرفہ شرائط سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، جس کے باعث بات چیت آگے نہیں بڑھ پا رہی۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، تب تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کسی قسم کے دباؤ یا بلیک میلنگ کو قبول نہیں کرے گا۔ ادھر خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں حملے کیے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک نئی یلو لائن قائم کی ہے، جسے وہ سیکیورٹی حد قرار دے رہے ہیں۔ فرانس کے صدر میکرون نے لبنان میں ایک فرانسیسی امن فوجی کی ہلاکت کا ذمہ دار حزب اللہ کو ٹھہرایا ہے، تاہم حزب اللہ نے اس الزام کی تردید کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے، خصوصاً اس وقت جب اہم آبی راستہ بند ہو اور مذاکرات تعطل کا شکار ہوں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل