Monday, April 20, 2026
 

دنیا میں امن کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، ملک میں بھی سیاسی رواداری کا مظاہرہ کیا جائے، پی ٹی آئی

 



پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی حمایت کا بھی اعلان کردیا۔ خیبرپختونخوا کے سابق وزیر خزانہ اور پی ٹی آئی کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے کہا پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ امن مذاکرات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کو بنیاد بناکر وفاقی حکومت نے جنگ کے نام پر راتوں رات پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر صرف ایک ہفتے میں پٹرولیم کمپنیوں کو 20 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا۔ دوسری جانب ترقیاتی بجٹ میں دفاع سمیت ہر محکمے پر 173 ارب روپے کا کٹ لگایا لیکن وزیراعظم نے اپنی  70 ارب مالیت کی پارلیمانی اسکیم  پر کوئی کٹ نہیں لگایا۔ پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران تیمور سلیم جھگا نے کہا کہ ہم ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کرتے ہیں، جب دنیا میں پاکستان امن کی بات کرتی ہے تو پھر ملک میں بھی سیاسی رواداری کا مظاہرہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا بانی چیئرمین اور ان کی اہلیہ کی آنکھوں کے علاج کے حوالے سے بداعتمادی کی فضا بڑھی ہے، ہماری جماعت کی اولین ترجیح بانی چیئرمین اور اسیر افراد کی رہائی ہے۔ انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پہلے عوام پر پٹرول اور ڈیزل کا وار اور پھر بجلی کا وار کیا، پٹرولیم گیس سمیت ہر چیز مہنگی ہوتی جارہی ہے جبکہ حکومت سے معشیت نہیں چل رہی ہے۔عوام کو فارم 47 کے باعث شدید معاشی تکلیف کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر منتخب حکومت توانائی اور عوامی مسائل اور مشکلات حل نہیں کرسکتی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا ہے، پیٹرول پر ٹیکس ایک دن میں 80 روپے سے بڑھا کر 160روپے کردیا گیا ہے، پٹرولیم مصنوعات بڑھانے کے ساتھ پورے ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عجیب منطق پیش کی اگر بجلی لوڈ شیڈنگ نہ کرتے تو عوام پر بجلی بلوں کا اضافی بوجھ پڑتا۔ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ نے کہا وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے ایل این جی معاہدوں کو آڑ بنا کر اپنی ہی سابقہ حکومت کو نشانہ بنایا ہے جبکہ مفتاح اسماعیل بھی اپنی سابقہ حکومت کے خلاف چارج شیٹ پیش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کول پاور پلانٹ ساحل سمندر کی بجائے پنجاب کی زرخیز زمینوں ساہیوال میں لگایا گیا، حیرت کی بات ہے کہ ایل این جی نہ ملنے کے باوجود قطری حکومت کو 2۔4 ارب روپے ماہانہ دیے جارہے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت بجلی کے بحران کے پر جو ڈھائی گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا اعلان کیا گیا ہے لیکن خیبرپختونخوا میں 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے یہ تو ابھی گرمی آنا باقی ہے، اسلام آباد میں یہ ڈھائی گھنٹے تو دیگر صوبوں میں 8 گھنٹوں تک محیط ہے۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ بدقسمتی سے پٹرولیم لیوی کی مدد میں رقم خیبر پختونخوا کو ابھی تک نہیں ملی اور نہ حکومت اسکو دینے کو تیار ہے، انہوں نے کہا جب عوام پر مرکزی حکومت کی جانب سے پٹرولیم بم گرایا گیا اور وزراء نے ٹی وی پر ا کر مختلف فارمولے فارمولے پیش کئے تو عوامی پریشر کے سامنے وزیراعظم نے ٹی وی پر ا کر پیٹرول کی قیمت کم کی لیکن ڈیزل پر ٹیکس ختم کر کے پٹرول پر ٹیکس لگایا۔عوام کے سامنے روزانہ ڈرامے پیش کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت اور پنجاب حکومت عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے دھکیلنے کے باوجود اپنی شاہ خرچیاں کم کرنے کو تیار نہیں۔ وزیراعظم اور ان کی بھتیجی اسپیشل چارٹر تیاروں میں گلف کے چکر کاٹ رہے ہیں، کے پی پر اعتراض کرنے والوں کا یہ حال ہے کہ تونسہ ڈیرہ غازی خان میں ایک ایک سرنج سے کئی لوگوں کو انجکشن لگائے گئے اور بچوں میں ایچ آئی وی ایڈز منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا وفاقی حکومت کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا کہ اسلام آباد  اور لاہور کے صرف فرسٹ کلاس سیٹزن ہیں۔انہوں نے کہا کہ سولر پر ٹیکس لگائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اپ بجلی کم استعمال کریں اور بجلی کا بل کم ائے گا۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ جن لوگوں کو بل ہی نہیں مل رہی وہ سولر لگا رہے ہیں لیکن حکومت سے یہ بھی ہضم نہیں ہو رہا اور الٹا ان پر نیٹ مانیٹرنگ کے لیے میٹر لگائے گئے اور اب اس پر بھی اعتراض کیا جا رہا ہے کہ اس سے بجلی کا استعمال کم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو پتہ تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ ہے تو اسے فیول ریزرو کرنا چاہیے تھا لیکن حکومت کے پاس تو 30 دن کا فیول ریزروڈ بھی نہیں ہے الٹا عوام پر کفایت شعاری کے نام پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دروازے کھولے گئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے عوام پر 50 فیصد ٹیکس لگایا ہوا ہے لیکن ریلیف تو دور کی بات عوام کا کبھی مداوا نہیں کیا پروٹوکول انجوائے کیے جا رہے ہیں اور عوام کو کفایت شعاری کے درس دیے جا رہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل