Loading
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے متوفی کوٹے پر ملازمتیں نا دیئے جانے کیخلاف درخواستوں پر 5 درخواستگزاروں کو ملازمتیں فراہم کرنے کا حکم دیدیا۔
ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو متوفی کوٹے پر ملازمتیں نا دیئے جانے کیخلاف مختلف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ سید عبد الصمد جعفری نے ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ میں نائب قاصد، محمد ابتہاج کمال نے محکمہ تعلیم میں جونیئر کلرک، شیخ محمد ارسلان غنی نے محکمہ تعلیم میں نائب قاصد، محمد افراہیم اور جلیس الرحمان نے محکمہ تعلیم میں جونیئر کلرک کی تقرری کے لیے درخواست دی۔
ملک الطاف جاوید ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ درخواستگزاروں نے والدین کے انتقال کے بعد سندھ سول سرونٹس رولز 1974 کے تحت ملازمتوں کے لئے درخواستیں دیں۔
ڈیپارٹمنٹل ریکروٹمنٹ کمیٹی نے بھی درخواستگزاروں کی تقرری کی سفارش کی۔ سپریم کورٹ کے کوٹہ پر ملازمتوں سے متعلق فیصلے کے بعد درخواستگزاروں کی تقرریاں منسوخ کردی گئیں۔
سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد متوفی کوٹہ کے تحت ملازمتیں نہیں دی جاسکتیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ نے جنرل پوسٹ آفس کیس میں کوٹہ کے تحت ملازمتوں کو ختم کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ماضی پر لاگو نہیں ہوگا۔ سرکاری ملازم کے انتقال کے فوری بعد اہل خانہ کو ملازمت کا حق حاصل ہوجاتا ہے۔ تقرری کا لیٹر جاری ہونا محض انتظامی کارروائی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ ماضی کے حقوق ختم نہیں کرتا۔
سرکاری محکمے ڈی آر سی کی سفارشات پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ متوفی کوٹہ کے تحت حاصل شدہ حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق ماضی پر نہیں ہوگا۔ درخواستگزاروں کو 15 روز میں تقرری لیٹر جاری کئے جائیں۔ عدالت نے 5 درخواستگزاروں کو متوفی کوٹہ پر ملازمتیں فراہم کرنے کا حکم دیدیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل