Loading
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو انسانی معاشرت کا حسن اس کے باہمی رشتوں اور ایک دوسرے کے سہارے جینے میں پنہاں نظر آتا ہے۔
ایک وہ وقت تھا جب قحط اور تنگی صرف زمینوں تک محدود ہوتی تھی، دلوں تک نہیں۔ پہلے وقتوں میں جب گندم ختم ہوتی یا بھوک دستک دیتی، تو قدم خودبخود کسی مخلص دوست، عزیز یا چاہنے والے کی ڈیوڑھی کی طرف اٹھ جاتے تھے۔ آگے والا بھی ماتھے پر شکن لانے کے بجائے خوش دلی سے استقبال کرتا اور کہتا، ’’آؤ جی! قحط کے یہ دن ساتھ کاٹیں گے، مل کر مویشیوں کے چارے کا انتظام کریں گے‘‘۔
تب بارشیں بانٹ لی جاتی تھیں؛ اگر ایک بستی پیاسی ہوتی اور دوسری سیراب، تو ہریالی والے اپنے سوکھے کھیتوں والے بھائیوں کا سہارا بن جاتے تھے۔ تب انسانیت کا رشتہ فصلوں کے محتاج ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے دکھ سکھ کا سانجھی ہوتا تھا۔ تنگی میں بھی برکت تھی کیونکہ بانٹنے کا ہنر زندہ تھا۔ مگر افسوس! آج ہم جس عہدِ زیاں میں سانس لے رہے ہیں، وہاں مہنگائی نے صرف پیٹ پر لات نہیں ماری بلکہ ہمارے ان خوبصورت معاشرتی رشتوں کی بنیادیں بھی ہلا کر رکھ دی ہیں۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ روٹی مہنگی ہو گئی ہے، بلکہ ستم یہ ہے کہ ’سفید پوشی کا بھرم‘ برقرار رکھنا تاریخ کا مہنگا ترین سودا بن چکا ہے۔ آج کا انسان اپنے دکھ بانٹنے سے ڈرتا ہے؛ اسے خوف ہے کہ اگر اس نے اپنی تہی دستی کا ذکر کیا تو اس کا وہ وقار نیلام ہوجائے گا جسے اس نے برسوں کی محنت سے سنوارا تھا۔ ماضی کا وہ ’مشترکہ دکھ‘ اب ایک ’انفرادی عذاب‘ بن چکا ہے، جہاں ہر شخص اپنی سفید پوشی کی چادر میں چھپا ہوا مہنگائی کے خنجر تلے ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔
اس معاشی جبر کا سب سے ہولناک رخ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والا بے تحاشa اضافہ ہے۔ جب پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو وہ صرف گاڑیوں کے پہیوں کو نہیں روکتی، بلکہ وہ عام آدمی کی زندگی کی سانسیں روکنے لگتی ہے۔ ڈیزل مہنگا ہوتے ہی ٹرانسپورٹ کے کرائے آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں اور اس کا پہلا وار ’اجناس‘ پر ہوتا ہے۔ کسان کے لیے ٹریکٹر چلانا، فصل کاٹنا اور منڈی تک پہنچانا ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔
ستم ظریفی دیکھیے کہ ڈیزل اور پٹرول کے بڑھنے سے آٹا، دال، چینی اور ہر بنیادی ضرورت کی چیز مہنگی ہو جاتی ہے، مگر اس معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ’مزدور کی اجرت‘ ہے۔ ہر چیز کی قیمت کو پر لگ جاتے ہیں، ٹرانسپورٹر اپنا کرایہ بڑھا لیتا ہے، دکاندار اپنا منافع بڑھا لیتا ہے، مگر وہ مزدور جو صبح سے شام تک تپتی دھوپ میں ہڈیاں پگھلاتا ہے، اس کی دیہاڑی اور اجرت وہی کی وہی رہتی ہے۔ اس معاشی عدم توازن نے سفید پوش طبقے اور محنت کش کو ایک ایسی بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔
سفید پوشی دراصل ایک چھلنی کا نام ہے جس سے روزانہ خواہشات، ضرورتیں اور بنیادی حقوق چھن کر نیچے گر جاتے ہیں، اور پیچھے صرف وہ ’خالی انا‘ رہ جاتی ہے جو انسان کو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی اجازت نہیں دیتی۔ ریاست کے اعداد و شمار پیش کرنے والے شاید یہ نہیں جانتے کہ جب بجلی کا ایک بل اور پٹرول کی قیمت کسی ریٹائرڈ ملازم کی پوری پینشن سے تجاوز کر جاتی ہے، تو اس رات اس کے گھر کا چولہا نہیں، بلکہ اس کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور سفید پوشی کا بھرم جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔ وہ طبقہ جو معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کہلاتا تھا، اب اسی ہڈی پر پڑنے والے بوجھ کے نیچے دب کر کراہ رہا ہے۔
آج کی بستی کا منظرنامہ بدل چکا ہے۔ وہ کلرک، وہ استاد، وہ ادنیٰ سا دہاڑی دار جو کل تک اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلاتا تھا، اب چادر اتنی سکڑ چکی ہے کہ اسے ڈھانپنا نامکن ہوگیا ہے۔ بازاروں میں ہجوم تو ہے، مگر خریداری غائب ہے۔ لوگ پھلوں کے ٹھیلوں پر قیمت پوچھ کر خاموشی سے آگے بڑھ جاتے ہیں کیونکہ ان کی جیب اور ان کے بچوں کی خواہشات کے درمیان ایک ایسی خلیج حائل ہو چکی ہے جسے پاٹنا ان کے بس میں نہیں۔
پہلے وقتوں کی ’برکت‘ کا ذکر اب داستانوں کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ تب وسائل کم تھے مگر احساس زیادہ تھا۔ اب وسائل کی ریل پیل کے دعوے تو بہت ہیں، مگر ایک عام آدمی کے لیے دو وقت کی عزت کی روٹی خواب بنتی جا رہی ہے۔ مہنگائی کے اس خنجر نے صرف معیشت کا گلا نہیں کاٹا، بلکہ اس نے اس "اعتماد" کو بھی ذبح کر دیا ہے جو ایک بھائی کو دوسرے بھائی کا سہارا بناتا تھا۔ اب ہر کوئی اپنی بقا کی جنگ میں اتنا مصروف ہے کہ اسے برابر والے گھر سے اٹھنے والے دھوئیں میں لکڑیوں کی تپش تو محسوس ہوتی ہے، مگر اس بھوک کی تڑپ سنائی نہیں دیتی جو اس آگ کا اصل سبب ہوتی ہے۔
ریاست اور مقتدر حلقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب کسی قوم کا سفید پوش طبقہ اپنی غیرت کا سودا کرنے پر مجبور ہو جائے، تو وہ معاشرہ اخلاقی طور پر بانجھ ہو جاتا ہے۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اعداد و شمار کی جادوگری سے نکل کر اس عام آدمی کی آنکھوں میں جھانکیں جو اب سوال کرنے کی سکت بھی کھو چکا ہے۔ اگر یہ سفید پوشی کا بھرم ٹوٹ گیا، تو پھر جو سیلاب آئے گا اسے کوئی بند نہیں روک پائے گا۔
مورخ جب اس دور کی تاریخ لکھے گا، تو وہ ضرور پوچھے گا کہ اس بستی کے باسیوں نے کفن پر تو ٹیکس ادا کر دیا تھا، مگر کیا وہ جیتے جی ایک دوسرے کا بوجھ بانٹنے کی وہ روایت بچا پائے تھے جو ان کے بزرگوں کی میراث تھی؟ وقت اب بھی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں، ورنہ مہنگائی کا یہ خنجر صرف جیبیں ہی نہیں، ہماری تہذیب اور روح کو بھی چیر کر رکھ دے گا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل