Tuesday, May 05, 2026
 

اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس ثمن رفعت امتیاز کی بطور جج تعیناتی کے خلاف درخواست ناقابلِ سماعت قرار

 



اسلام آباد ہائیکورٹ نے  جسٹس ثمن رفعت امتیاز کی بطور جج تعیناتی کے خلاف درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست کو عدلیہ کی آزادی اور وقار کو مجروح کرنے کا رجحان قرار دے دیا، عدلیہ کی آزادی اور وقار مجروح کرنے کا رجحان نہایت افسوسناک ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو مستقبل میں احتیاط سے کام لینے کی ہدایت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ  درخواست میں حاضر سروس جج سے متعلق نہایت ہتک آمیز، بے بنیاد اور غیر مصدقہ الزامات لگائے گئے، حاضر سروس جج پر لگائے گئے الزامات بادی النظر میں توہینِ عدالت کے زمرے میں آتے ہیں، جج پر لگائے گئے الزامات عدالت کارروائی یا جج کے کنڈکٹ سے متعلق ہیں۔ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کے مختلف فورمز موجود ہوتے ہیں، جسٹس ارباب محمد طاہر، جج کا مبینہ مس کنڈکٹ کی تحقیقات خصوصی طور پر سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار ہے،  توہینِ عدالت کی درخواست قابلِ سماعت نہیں، اعتراضات برقرار رکھے جاتے ہیں،  کلثوم خالق ایڈووکیٹ نے جسٹس ثمن رفعت امتیاز کی تعیناتی کے خلاف درخواست دائر کی تھی، رجسٹرار آفس نے جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے خلاف درخواست پر اعتراضات عائد کیے تھے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے جوڈیشل سائیڈ پر بھی اعتراضات برقرار رکھنے کا آرڈر جاری کیا، جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے سندھ ہائیکورٹ میں تبادلہ کر دیا گیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل