Saturday, May 16, 2026
 

لندن؛ فلسطینیوں کی حمایت میں ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے؛ اسرائیل کیخلاف شدید نعرے

 



برطانوی دارالحکومت لندن میں آج دو بڑے مظاہرے ہوئے جس کے باعث غیر معمولی سیکیورٹی صورتحال دیکھنے میں آئی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پہلا عظیم الشان مظاہرہ فلسطین کے حق میں بنام ’’نکبہ ڈے مارچ‘‘ کیا گیا۔ جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے فلسطینی پرچم اور پلے کارڈز اپٹھا رکھے تھے جس میں اسرائیلی بمباری کی مذمت اور فلسطینیوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی کے مطالبے درج تھے۔  خیال رہے کہ یہ مظاہرہ “نکبہ ڈے” کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا جو ہر سال فلسطینیوں کی 1948 میں بڑے پیمانے پر بے دخلی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم نے بھی اپنی اینٹی فاشسٹ ریلی کو فلسطین مارچ کے ساتھ ملا دیا۔ فلسطین حامی مظاہرین نے غزہ میں جنگ بندی، فلسطینی ریاست کے قیام اور برطانوی حکومت سے اسرائیل کی حمایت ختم کرنے کے مطالبات کیے۔ ایک مظاہرہ کرنے والی شیرون ڈی وِٹ نے کہا کہ اسرائیل کا رویہ ناقابلِ یقین حد تک غیرمنصفانہ ہے۔ فلسطینیوں کو اپنی ریاست بنانے کا حق ملنا چاہیے۔ ایک اور شریک علی حیدر نے کہا کہ برطانوی معاشرہ تقسیم کا شکار ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق “ہم نفرت نہیں بلکہ محبت، امید اور یکجہتی کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ میٹروپولیٹن پولیس نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے 4 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے تھے جن میں لندن سے باہر سے بلائے گئے اضافی پولیس افسران بھی شامل تھے۔ پولیس نے بکتر بند گاڑیاں، گھڑ سوار دستے، ڈرونز، کتوں اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی کیا۔ یہ حالیہ برسوں میں لندن کی سب سے بڑی پبلک آرڈر کارروائی تھی۔ پولیس نے پہلی بار احتجاجی مظاہروں میں “لائیو فیشل ریکگنیشن” ٹیکنالوجی بھی استعمال کی، جبکہ منتظمین کو قانونی طور پر اس بات کا پابند بنایا گیا کہ مدعو مقررین نفرت انگیز تقاریر نہ کریں۔ یاد رہے کہ ان مظاہروں سے ایک روز قبل برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے خبردار کیا تھا کہ سڑکوں پر بدامنی یا دھمکی آمیز رویہ اختیار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل