Saturday, May 16, 2026
 

آر ایس ایس کا پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا بیان بامعنی ہے مگر اس کو پورا دیکھنا چاہیے، سابق سفیر

 



سابق سفیرسردار مسعود خان  نے کہا ہے کہ آر ایس ایس کی جانب سے پاکستان سے  بات  چیت کا بیان آنا بامعنی ہے  لیکن  آر ایس ایس  کے جنرل سیکریٹری  نے پلوامہ  واقعے اور پاکستان کیخلاف  دھمکیاں بھی  دہرائی ہیں۔  آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکا و اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود  خان نے ایکسپریس نیوز  پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت  سے جوبیانات  سامنے آئے ہیں وہ خوش آئند ہیں، ان بیانات کا تجزیہ کریں تو  یہ بیرونی ممالک کے زیر اثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں بھارت کے لوگ امریکا  گئے ہوئے  تھے، خلیجی ریاستیں  بھی  دہلی کو سمجھا ر ہی ہیں کہ پاکستان کے ساتھ  کم ازکم مکالمہ  تو جاری رکھیں، کشیدگی نہیں رہنی  چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں سول سوسائٹی سے بات چیت کے بیانات سامنے  آتے ہی رہے ہیں  لیکن بھارتی انتہا پسند جماعت  آر ایس ایس  کی جانب سے یہ بیان آنا بامعنی ہے،  آر ایس ایس  کے جنرل سیکریٹری کا پورا بیان  سنا جائے۔ مسعود خان نے کہا کہ آر ایس ایس کے عہدیدار نے پلوامہ کے سلسلے میں دھمکیاں بھی دہرائی ہیں۔ مسعود خان کا کہنا تھا کہ  اپنے بیان میں جنرل سیکریٹری  آر ایس ایس نے کہا کہ ہم  بات چیت  کر رہے ہیں لیکن  اس کے باوجود بھی ہم  پاکستان پر حملہ کر سکتے ہیں ، انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا  کہ اس کا یہ مطلب  نہیں کہ ہم پاکستان  کیخلاف  کارروائی نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ مقبوضہ  کشمیر کو ہم  کارپٹ کے نیچے  نہیں  ڈال  سکتے، وزیر اعظم کا کشمیر  سے متعلق بیان  اچھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت  کے ساتھ   دوسرا اہم  مسئلہ سندھ  طاس معاہدہ ہے، بھارت نے اس معاہدے اور عالمی قوانین  کیخلاف  ورزی کرتے ہوئے  معطل کیا ہوا ہے۔ سابق  سفیر نے کہا  کہ پاکستان اور بھارت ہمسایہ ممالک ہیں، ہمسایہ اور جغرافیہ نہیں  بدل سکتے ،صدیوں تک انہوں نے ساتھ رہنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں بقا باہمی کی جانب جانا ہو گا لیکن ہمیں دیکھنا ہو گا کہ  کیا واقعی بھارتی  پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانا چاہتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل