Monday, May 18, 2026
 

اسرائیل نے ایران کیخلاف عراق میں دو خفیہ اڈے قائم کیے، نیویارک ٹائمز کا بڑا انکشاف

 



امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے عراق کے مغربی صحرا میں کم از کم دو خفیہ فوجی اڈے قائم کر رکھے تھے، جنہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا رہا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اڈے 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران بھی استعمال ہوئے اور موجودہ کشیدگی میں بھی ان کا کردار سامنے آیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ان میں سے ایک خفیہ اڈے کا انکشاف اس وقت ہوا جب ایک عراقی چرواہا اتفاقیہ طور پر اس مقام تک پہنچ گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چرواہے نے وہاں فوجیوں، ہیلی کاپٹروں اور ایک عارضی رن وے کو دیکھا تھا۔ چرواہے نے مبینہ طور پر عراقی فوجی حکام کو اس بارے میں اطلاع دی، جس کے بعد عراقی فوج نے علاقے میں ایک جاسوسی ٹیم بھیجی۔ تاہم رپورٹ کے مطابق اس ٹیم پر حملہ کر دیا گیا جس میں ایک عراقی فوجی ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے، جبکہ فوجی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراقی حکام نے ابتدا میں صرف ’غیر ملکی فورسز‘ کے حملے کی بات کی تھی، لیکن بعد میں عراقی فوجی حکام نے امریکی فوج سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ یہ امریکی فورسز نہیں تھیں، جس کے بعد شبہ اسرائیل پر گیا۔ عراق کی حکومت نے اب تک سرکاری طور پر اسرائیلی اڈوں کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی، کیونکہ عراق اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں اور عراقی عوام کی بڑی تعداد اسرائیل کو دشمن سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک اڈہ 2024 کے آخر میں قائم کیا گیا تھا تاکہ اسرائیلی طیاروں کو ایران تک پہنچنے کیلئے کم فاصلہ طے کرنا پڑے۔ نیویارک ٹائمز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا کو ان خفیہ اڈوں کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا نے عراق کو بعض اوقات اپنے ریڈار بند کرنے پر بھی مجبور کیا، جس سے بغداد کی فضائی نگرانی کمزور ہوئی۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خفیہ عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے ایک بڑا انکشاف ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل