Loading
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی سینیارٹی لسٹیں نہیں چھپائی جا سکتیں اور تمام فہرستیں ویب سائٹس پر ڈالنا لازمی ہوں گی۔ جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے اس حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے حکم دیا کہ تمام سرکاری محکموں، خود مختار اداروں اور کارپوریشنز کی سینیارٹی لسٹیں ہر سال جنوری میں اپ ڈیٹ کی جائیں۔ عدالت کے مطابق ایک ہی بیچ کے ملازمین کی سینیارٹی کا تعین میرٹ لسٹ میں دی گئی میرٹ پوزیشن کے مطابق ہی کیا جانا چاہیے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ’’پہلے آؤ، پہلے پاؤ‘‘ کا من مانا عنصر پبلک ایڈمنسٹریشن کے منصفانہ نظام کے منافی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سینیارٹی لسٹوں کی معلومات تک رسائی ہر شہری اور ملازم کا آئینی و بنیادی حق ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ ملازمت کے معاہدے میں لکھی گئی خلاف قانون شرط ملازم کے حقوق ختم نہیں کر سکتی۔ عدالت نے فیصلے کی کاپی فوری طور پر چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو عمل درآمد کے لیے بھیجنے کا حکم بھی دیا۔
عدالت نے مستقلی کے 7 سال بعد تک سینیارٹی لسٹ جاری نہ کرنے پر پورٹ قاسم اتھارٹی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت کے مطابق تمام سرکاری اور نیم سرکاری محکمے نئی بھرتی، ترقی یا مستقلی کے فوراً بعد سینیارٹی لسٹیں ریوائز کرنے کے پابند ہوں گے۔
وفاقی آئینی عدالت نے پائلٹ کیپٹن محمد علی خان کی سینیارٹی سے متعلق اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے پورٹ قاسم اتھارٹی کی جاری کردہ متنازع سینیارٹی لسٹ بھی کالعدم قرار دے دی۔
عدالت نے پورٹ قاسم اتھارٹی کو فوری طور پر نئی اور درست سینیارٹی لسٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ پورٹ قاسم اتھارٹی نے میرٹ کے باوجود درخواست گزار کو صرف ایک دن تاخیر سے جوائن کرنے پر جونیئر قرار دیا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ ایک ہی بیچ اور ایک ہی اشتہار کے تحت بھرتی ہونے والے ملازمین کی سینیارٹی جوائننگ کی تاریخ کے بجائے میرٹ نمبر سے طے ہوگی۔ عدالت کے مطابق سلیکشن کمیٹی کی سفارشات پر محکمہ مرضی سے جوائننگ لیٹر دے کر سینیارٹی خراب نہیں کر سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جوائننگ کی تاریخ کی بنیاد پر جونیئر کرنا آئین میں دیے گئے برابری کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملازم کو جوائن کرنے کے لیے 7 دن کا وقت ملتا ہے اور اس دوران پہلے یا بعد میں آنے سے سینیارٹی پر فرق نہیں پڑتا۔
وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ بے روزگاری کے خوف سے ملازم سخت شرائط ماننے پر مجبور ہوتا ہے اور محکمہ ملازم کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر قانون نہیں بدل سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے پرانے عدالتی فیصلوں کے اصول اس کیس پر غلط لاگو کیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل