Thursday, May 21, 2026
 

21 مئی، مقبوضہ جموں وکشمیر کی جدوجہدِ آزادی کی تاریخ کا ایک دردناک باب 

 



21 مئی1990 کادن مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی اورکشمیریوں کے ناقابلِ شکست جذبہ آزادی کی یاد دلاتا ہے۔ 21 مئی 1990 کومقبوضہ کشمیرکی ایک مضبوط مذہبی و سیاسی آوازمیرواعظ محمد فاروق کوان کے گھر میں شہید کردیا گیا۔ میرواعظ محمد فاروق کشمیریوں کے حقِ آزادی اور بھارتی ناجائز قبضے کیخلاف ایک توانا آواز تھے۔ بھارتی ظلم صرف ایک رہنما کے قتل تک محدود نہ رہا، بلکہ میرواعظ محمد فاروق کے جنازے میں شریک ہزاروں کشمیریوں کو بھی خون میں نہلادیاگیا۔ سانحہ ہوال کے نتیجے میں سری نگر کی گلیاں لاشوں سے بھر گئیں، ماؤں کے سامنے ان کے جوان بیٹے خون میں تڑپتے رہے۔ یہ ہولناک قتلِ عام اس سچائی کا منہ بولتا ثبوت تھا کہ قابض بھارت صرف زندہ کشمیریوں سے ہی نہیں بلکہ ان کے جنازوں سے بھی خوفزدہ ہے. 21 مئی 2002ء کو بھارت نےپھراپنی بریریت دکھائی،کشمیریوں کی ایک اورتوانا آواز خواجہ عبدالغنی لون کوسری نگرمیں مزارِ شہداء کے مقام پرشہید کردیا۔ حریت قیادت کو نشانہ بنانا واضح ثبوت ہے کہ غاصب بھارت مقبوضہ کشمیر میں حق، حریت اور پاکستان سے وابستگی کی بات کرنے والی ہر آواز کو دبانا چاہتا ہے۔ یہ محض چند واقعات نہیں بلکہ حقِ خودارادیت کی خاطر کشمیری عوام کے خون سے لکھی گئی لازوال داستان اور ان کی قربانیوں کا استعارہ ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل