Loading
برصغیر میں عموماً اور پاکستان میں خصوصاً، یہ رویہ عام پایا جاتا ہے کہ ہم کسی ایک فریق کی کامیابی کو دوسرے کی ناکامی سے نتھی کر لیتے ہیں۔
اسی رویے کا ایک پہلو ناکامی کی اصل وجوہات جاننے اور ان کا تدارک کرنے کی بجائے کسی بھی ’آسان ہدف‘ پر الزام دھر دینا ہے، جیسے کہ بھاری مداحوں نے 2019 سے 2022 کے دوران ویرات کوہلی کی خراب کارکردگی کا الزام ان کی شریک حیات، انوشکا شرما پر عائد کیا۔
اسی رویے کا ایک اور پہلو غیر ضروری ’تقابل‘ بھی ہے جیسے کہ پاکستانی شائقین ایک طویل عرصے سے بابر اعظم اور ویرات کوہلی کے مابین کرتے چلے آئے ہیں۔ اب یہ مضمون اس نفسیاتی تجزیے کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ کیسے یہ تقابل اور ’کنگ‘ کا خطاب خود بابر کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا، ویسے بھی اس کا مقصد کچھ اور ہے۔
چند دن قبل سوشل میڈیا پر بابر کے چند پرستاروں نے ان کی پی ایس ایل میں اہمیت ثابت کرنے کے لیے کوہلی پر آئی پی ایل کے حوالے سے کچھ ’الزامات‘ عائد کرکے انہیں کمزور کھلاڑی ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ان الزامات میں سے اکثر جھوٹ و بددیانتی پر مبنی تھے جیسے کہ ’کوہلی آئی پی ایل میں سب سے زیادہ میچ ہارنے والے کپتان ہیں۔‘ جو کہ یوں غلط ہے کہ کوہلی نے بطور کپتان اپنے 144 میچوں میں سے 72 ہارے جبکہ دھونی نے بطورِ کپتان اپنے 235 میچوں میں سے 97 میں شکست کا تلخ ذائقہ چکھا۔ آئیے کوہلی کی آئی پی ایل میں کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے آپ وہ الزامات ہو بہو اسی حالت میں ملاحظہ کیجیے جس میں وہ مجھے ملے تھے۔
’’اگرچہ ویرات کوہلی دنیاۓ کرکٹ کے کامیاب ترین بیٹسمین ہیں اور آئی پی ایل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں لیکن اس ساری کامیابی کے پیچھے ایک واضح حقیقت ہے کہ انکا اس فورمیٹ میں کھیل انتہائی محتاط اور سست روی پر مبنی ہے جیسا کہ انکے خلاف کچھ برے ریکارڈ ہیں:
1۔ سب سے زیادہ ڈاٹ بال کھیلنے والا کھلاڑی
2۔ سب سے سلو ففٹی 50 بال پر
3۔ ۔سب سے سلو سینچری 67 بالوں پر
4۔ سب سے زیادہ ڈراپ کیچز 15
5۔ تیسرے نمبر پر صفر پر آؤٹ ہونے والا 13
6۔ ۔ سب سے زیادہ میچ ہارنے والا کپتان
7۔ 2021سے اب تک سب سے سلو اسٹرائیک ریت کوہلی کا ہے
اسٹرائیک ریٹ 132
ایوریج 40
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوہلی کی سب سے زیادہ سنچریاں اور رنز کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ میچ کھیل چکا ہے اور ریکارڈ کے مطابق وہ ٹیم سے زیادہ ذاتی رنز اور نمبر بہتر کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔
حالانکہ بابر پر یہی الزام ہے لیکن پی ایس ایل میں بابر کسی منفی ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے اور سب سے زیادہ رنز ففٹی اور سینچری (مشترک) بنانے کا ریکارڈ رکھتا ہے۔
ٹوٹل رنز: 4,193
میچز: 110
ایوریج: 47.60
اسٹرائیک ریٹ: 129.73
50+ اسکور: 33 (ریکارڈ)
بلند ترین اسکور (بطور کپتان) : 115
اب ہم ان الزامات کی باری باری تردید کریں گے۔
1: سب سے زیادہ ڈاٹ بالز: یہ درست ہے کہ کوہلی نے واقعی آئی پی ایل میں سب سے زیادہ ڈاٹ بالز (2235) کھیلی ہیں لیکن یہاں یہ اعدادوشمار سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیے جا رہے ہیں۔ بھلا کیسے؟
دراصل کوہلی نے آئی پی ایل میں سب سے زیادہ گیندیں (6848) بھی کھیلی ہیں، وہ بھی کوئی سو پچاس نہیں بلکہ دوسرے نمبر پر آنے والے روہت شرما سے پوری 1351 گیندیں زائد، جبکہ روہت نے بھی 2072 ڈاٹ بالز کھیلی ہیں، یعنی کہ کوہلی سے محض 163 کم۔ اگر فیصد کے اعتبار سے بات کی جائے تو کوہلی نے اپنی مجموعی گیندوں کا 32.71 فیصد جبکہ روہیت نے 37.69 فیصد ڈاٹ کھیلیں۔
اب ظاہر ہے کہ جو بندہ اپنے بعد دوسرے نمبر پر آنے والے بلے باز سے اوسطاً 5 گیندیں ہر اننگ میں زیادہ کھیلتا ہو، وہ سب سے زیادہ ڈاٹ کھیلنے والا کیسے نہیں ہو گا؟
یاد رہے کہ کوہلی کا کیریئر اسٹرائیک ریٹ 140 جبکہ روہیت کا 130 ہے۔
کوہلی نے اب تک 9203 رنز اسکور کیے ہیں، وہ آئی پی ایل میں 9 ہزار ہی نہیں، 8000 پلس رنز بنانے والے بھی واحد بلے باز ہیں۔
2: سب سے سست ففٹی (50 بالز پر): یہ قطعی جھوٹ ہے کیونکہ کوہلی کی سست ترین ففٹی 45 گیندوں پر بنائی گئی تھی (بمقابلہ دہلی کیپٹل، دہلی، 2025)، یہی نہیں، اس میچ میں بنگلور 163 کا تعاقب کر رہی تھی اور اسے 3/26 کی خطرناک صورتحال کا سامنا تھا ایسے میں جب کرونال پانڈیا نے ایک اینڈ سے مارنا شروع کیا تو کوہلی نے دوسرا اینڈ سنبھل لیا۔ بنگلور 9 گیند قبل ہی 6 وکٹ سے میچ جیت گیا، کوہلی نے 47 گیندوں پر 51 رںز بنائے۔ جبکہ آئی پی ایل کی سست ترین ففٹی زاں پال ڈومینی نے 24 اپریل 2009 کو ممبئی کی جانب سے کنگز الیون پنجاب کے خلاف ڈربن پر 55 گیندوں میں مکمل کی تھی۔اس اننگ میں انہوں نے 63 گیندوں پر 59 رنز بنائے اور ان کی ٹیم شکست سے دوچار ہوئی (اگرچہ یہ ایک بہت ہی مشکل پچ تھی)۔
آئی پی ایل کے ٹاپ 15 سست ترین 50+ اسکور میں بھی یہ اننگ تو کجا، سرے سے کوہلی کا نام ہی نہیں آتا،اگرچہ اس لسٹ میں ڈومینی، شیکھر دھون، اسٹیو اسمتھ ، برینڈن میک کولم ، میتھیو ہیڈن اور ڈیوڈ وارنر جیسے کھلاڑی شامل ہیں۔
3: سب سے سست سنچری (67 گیندوں پر): استدلال میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے ’چیری پکنگ‘ (Cherry Picking) جس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی عبارت/ واقعے کا صرف وہی رخ پیش کرنا جس سے آپ کے موقف کی تصدیق ہوتی ہو۔ یہ نکتہ بھی ایسے ہی پیش کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتا دوں کہ یہ ایک مشترکہ ریکارڈ ہے (منیش پانڈے کے ساتھ) دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ اننگ ایک مشکل وکٹ پر کھیلی گئی تھی جہاں گیند رک رک کر آ رہی تھی، چناچہ اس کے نیچے ہو کر اسے باؤنڈری کے پار ’مسل‘ کرنا ناممکن تھا۔ 72 گیندوں پر 12 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے بنائے گئے 113 رنز کے دوران ان کا اسٹرائیک ریٹ 156 رہا جو اننگ کا بھی بہترین اسٹرائیک ریٹ تھا۔ دوسری اننگ میں شبنم کی وجہ سے راجھستان رائلز کو مدد ملی اور انہوں نے جوز بٹلر کی سنچری (58 گیندوں پر 100 ناٹ آؤٹ) کی بدولت 6 وکٹ سے میچ جیت لیا لیکن آخری اوور کی پہلی گیند پر ہی، یعنی وکٹ ان کے لیے بھی اتنی آسان ہرگز نہیں ہوئی تھی۔
4: سب سے زیادہ ڈراپ کیچ (15): یہ درست ہے کہ ویرات 2025 تک 15 ڈراپ کیچز کے ساتھ سرفہرست تھے لیکن دوسرے نمبد پر روندرا جڈیجا جیسے فیلڈر نے بھی 265 میچوں میں 14 کیچ ڈراپ کیے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب کوہلی نے 280 میچوں میں 125 کیچ پکڑے بھی ہیں، بشمول ایک میچ میں تین کیچ تک۔ جبکہ روندا جڈیجا نے اب تک 110 کیچ پکڑے ہیں۔
5: 13 صفر کے ساتھ تیسرے نمبر پر آؤٹ ہونے والا بلے باز: یہ بھی جھوٹ کا پلندہ ہے کیونکہ ویرات 272 اننگ میں 12 مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوئے جو کہ انہیں اس فہرست میں 16 نمبر پر پہنچاتے ہیں۔ سب سے اوپر گلین میکسویل 135 اننگ میں 19 صفر کے ساتھ موجود ہیں جبکہ روہت شرما اور دنیش کارتھک کے 18 صفر، اجنکیا رہانے کے 15، منیش پانڈے اور امبتی رائیدو کے 14 صفر ہیں۔ یاد رہے کہ ان سب نے کوہلی سے کہیں کم میچ کھیل کر ان سے زیادہ صفر حاصل کیے ہیں۔ یہاں میں نے صرف بلے بازوں کا تذکرہ کیا ہے۔
6: سب سے زیادہ میچ ہارنے والا کپتان: یہ بھی سفید جھوٹ ہے کیونکہ اس فہرست میں 235 میچ کھیل کر 97 مرتبہ شکست کا تلخ ذائقہ چکھنے والے مہندر سنگھ دھونی سرفہرست ہیں جبکہ کوہلی 140 میچوں میں 70 شکستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر۔ یاد رہے کہ روہت شرما 158 میچوں میں 67 مرتبہ شکست خوردہ رہے۔
7: 2021 سے اب تک سب سے سلو اسٹرائیک ریٹ کوہلی کا ہے (ایوریج 40, اسٹرائیک ریٹ 132): یہ بھی جھوٹ کا پلندہ ہے کیونکہ یہاں دی گئی اوسط کوہلی کی کیرئیر اوسط ہے جبکہ اسٹرائیک ریٹ پتہ نہیں کہاں سے لیا گیا ہے۔
لگے ہاتھوں یکم جنوری 2021 کے بعد کوہلی کے اصل اعدادوشمار بھی ملاحظہ کرلیجیے:
88 میچ، 3325 رنز، 44.33 اوسط ، 141.36 اسٹرائیک ریٹ، 4 سنچریاں، 28 نصف سنچریاں، *113 بہترین اسکور، 6 صفر۔
یہ اعدادوشمار اس عرصے میں کم از کم 1000 رنز بنانے والوں میں اوسط کے لحاظ سے کوہلی کو سائی سدرشن، لوکیش راہول اور ہائنرک کلاسن کے بعد چوتھا درجہ دلاتے ہیں، اس دوران کوہلی سے زیادہ رنز صرف شبمن گل (3394) نے بنائے۔
اچھا ایک دلچسپ امر ملاحظہ ہو کہ ان ’شایقین‘ کو کوہلی کے 272 اننگ میں 12 صفر بہت زیادہ لگ رہے ہیں جبکہ بابر پی ایس ایل میں محض 109 اننگ میں 10 مرتبہ صفر پر پویلین لوٹ چکے ہیں اور ان سے زیادہ صفر صرف عماد وسیم (12) نے ہی حاصل کیے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل