Loading
روس نے اپنے فوجیوں کی چین میں ٹریننگ کے الزام کو مسترد کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے رائٹرز کی اس رپورٹ کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا کہ چین کی فوج نے تقریباً 200 روسی فوجیوں کو خفیہ طور پر تربیت دی جن میں سے کچھ یوکرین میں لڑنے کے لیے گئے۔
جولائی 2025 کے ایک روسی چینی معاہدے کا جو رائٹرز نے جائزہ لیا تھا، اس میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 200 روسی فوجیوں کو بیجنگ اور مشرقی شہر نانجنگ سمیت دیگر مقامات پر فوجی تنصیبات پر تربیت دی جائے گی۔
معاہدے میں یہ بھی کہا گیا کہ سینکڑوں چینی فوجی روس میں فوجی تنصیبات پر تربیت حاصل کریں گے۔
اس رپورٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یورپ اور امریکا دونوں میں نیوز کی طرف سے بہت زیادہ غلط معلومات شائع کی جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا ہمیں سامنا ہے۔
دوسری جانب چینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کے تنازع میں غیر جانبدار ہے اور اس نے خود کو امن ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
واضح رہے کہ صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اس ہفتے چین میں ملاقات کے دوران یوکرین امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل