Loading
پاکستان شوبز انڈسٹری کی باصلاحیت اداکارہ صنم سعید نے خواتین کے حقوق اور معاشرتی تبدیلی سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز ضرور اٹھانی چاہیے، لیکن ہر معاملے میں ’وومن کارڈ‘ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
صنم سعید، جو اپنی جاندار اداکاری کے ساتھ ساتھ سنجیدہ اور مدلل گفتگو کے لیے بھی جانی جاتی ہیں، نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران پاکستان میں خواتین کے حقوق کی تحریک پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خواتین کو تعلیم، وراثت، مساوی تنخواہ اور تحفظ جیسے بنیادی حقوق دلانے کی جدوجہد نہایت اہم تھی کیونکہ کئی خواتین آج بھی ان بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے خواتین کے حقوق سے متعلق اصل مسائل پر توجہ دینے کے بجائے اب بحث کا رخ دیگر معاملات کی جانب موڑ دیا جاتا ہے، جس سے حقیقی تبدیلی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
صنم سعید نے ورک پلیس پر خواتین کے حقوق اور برابری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مؤثر رابطہ اور مثبت اندازِ گفتگو ہی تبدیلی کی کنجی ہے۔ ان کے مطابق خواتین کو صرف اس بنیاد پر مطالبات نہیں کرنے چاہئیں کہ وہ عورت ہیں، بلکہ انہیں اپنے مؤقف کو ایک بنیادی حق کے طور پر پیش کرنا چاہیے اور اس کے لیے عملی جدوجہد کرنی چاہیے۔
اداکارہ کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل ہو رہی ہے اور صارفین ان کے خیالات پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل