Saturday, May 23, 2026
 

غیر قانونی افغان مہاجرین کیخلاف میزبان ممالک کا شکنجہ سخت، گرفتاریاں شروع

 



دنیا بھر میں غیر قانونی افغان مہاجرین کیخلاف میزبان ممالک کا شکنجہ سخت ہوگیا ہے، اس سلسلے میں ترکیہ میں گرفتاریوں کی نئی لہر کا آغاز ہوا ہے۔ غیر قانونی افغان مہاجرین میزبان ممالک کی داخلی سیکیورٹی اور امن و امان کیلیے سنگین چیلنج بن گئے  ہیں۔ جرمنی اور ایران کے بعد ترکیہ میں بھی غیر قانونی افغان مہاجرین کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرتے ہوئے نئی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ معروف افغان نشریاتی ادارے افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ پولیس نے شرناق اور بایبُرت میں غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے 15 افغان مہاجرین سمیت 6 انسانی اسمگلروں کو گرفتار کر لیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بایبُرت میں پناہ گزینوں کو غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کروانے والےانسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کے 3 افغان کارندے گرفتار کیے گئے ہیں جب کہ ایک کو عدالتی حکم پر جیل منتقل کیا گیا ہے۔ افغان انٹرنیشنل کے مطابق ترک حکام نےحراست میں لیے گئے تمام افغان باشندوں کو ملک بدری کے مراکز منتقل کر کے افغانستان واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے ۔ ترک محکمہ ہجرت نے غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف سخت ترین پالیسی اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ  غیر قانونی ہجرت کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی۔ سخت سرحدی نگرانی، تارکین وطن کی گرفتاریوں اور فوری ملک بدری کا عمل جاری رہے گا۔ اقوام متحدہ کے مطابق  ترکیہ نےغیر قانونی افغان مہاجرین کیخلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپناتے ہوئےرواں سال 13500افغان پناہ گزینوں کو گرفتار اور ڈیپورٹ کرچکا ہے۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی افغان تارکین کی سیکیورٹی اسکریننگ نہ ہونا خطرناک خلا ہے، جس سے فائدہ اٹھا کر انتہا پسند عناصر پناہ گزین کے روپ میں میزبان ممالک میں سلیپر سیلز قائم کر سکتے ہیں۔ افغان مہاجرین کے بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ سے میزبان ممالک اب انسانی ہمدردی سے زیادہ اپنے قومی مفاد اور سلامتی کو ترجیح دینے پر مجبور ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل