Loading
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے مختلف سرکاری منصوبوں میں کانٹریکٹ اور ایڈہاک بنیادوں پر تعینات 85 سے زائد کانٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم دے دیا۔
ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو مختلف سرکاری منصوبوں میں کانٹریکٹ اور ایڈہاک بنیادوں پر تعینات ملازمین کی مستقلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزاروں کو سندھ حکومت کے مختلف منصوبوں میں مسابقتی عمل کے ذریعے تعینات کیا گیا۔ درخواستگزاروں کی ملازمتوں میں برسوں تک توسیع ہوتی رہی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ سندھ ریگولیرائزیشن قوانین کے تحت درخواست گزاروں کو مستقل کیا جانا چاہئے۔ اگرچہ کانٹریکٹ ملازمین کو مستقلی کا حق بطور بنیادی حق حاصل نہیں ہوتا۔ سندھ اسمبلی نے کانٹریکٹ اور ایڈ ہاک ملازمین کو مستقل کرنے کے لئے خصوصی قانون سازی کی۔
سندھ ہئیکورٹ نے کہا کہ یہ قوانین برسوں تک خدمات انجام دینے والے ملازمین کو تحفظ دیتا ہے۔ حکومت بغیر کسی امتیازی رویے کے تمام اہل ملازمین کو قانون کا فائدہ دینے کی پابند ہے۔ سندھ ریگولرائزیشن ایکٹ کے تحت قانون کے نفاذ سے قبل اہل کانٹریکٹ ملازمین کو ریگولر تصور کیا جائے گا۔
عدالت نے کہا کہ حکومت کانٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کے قانون پر امتیازی انداز میں عمل نہیں کرسکتی۔ اہل ملازمین کو قانون کے تحت ریگولیرائزیشن کا حق حاصل ہے۔ عدالت نے 85 سے زائد کانٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم اور اہلیت جانچنے کے لیئے سندھ پبلک سروس کمیشن کو معاملہ ارسال کرنے کا حکم دیدیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل