Loading
یہ 80 کی دہائی کا آغاز اور 70 کی دہائی کے اختتام کا سنگم ہے، ہم نے اپنے ڈراؤنے خواب کے قصے ماں کو سنائے۔ ماں بلبلا اٹھی، نانا کو بتایا۔ اب نانا اپنے گھر پر عشا کے بعد تلاوت کرتے، دعائیں کرتے۔ ہمیں یقین ہوتا کہ اب خواب نہیں آئیں گے اور سچی بات تو یہ ہے کہ خواب نہیں آئے۔ آج کے زمانے کا آسیب مصنوعی ذہانت ہے۔
ایک طرف سائنس اور ٹیکنالوجی ہماری صلاحیتوں کو نئی بلندیوں پر لے جارہی ہے تو دوسری طرف وہی ٹیکنالوجی ہماری سب سے قیمتی چیز یعنی ہمارے ذہن کی آزادی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت تیزی سے ہماری سوچ، فیصلوں اور ادراک پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ الجھن اور اذیت یہ ہے کہ کیا ہم اپنے ذہن کی خودمختاری کو بچا پائیں گے یا یہ نئی آسیب نما طاقتور مصنوعی ذہانت سے لیس ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ ہماری سوچ پر قبضہ کرلے گی؟
ہم اور ہمارے ہوش پر علمی قبضہ تیز رفتار ہوتے ہوئے قدموں کی لمبائی کے ساتھ افقی اور عمودی دونوں سمت بڑھ رہا ہے۔ انسانی ذہن اللہ کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ ہماری سوچ، ہماری کہانیاں، ہمارے اخلاقی فیصلے اور ہماری انفرادی حقیقت یہ سب ہماری ذاتی ملکیت ہیں۔ اگر ہم انہیں مشینوں کے حوالے کردیں تو نہ صرف ہماری تخلیقی صلاحیت متاثر ہوگی بلکہ ہماری انسانیت بھی کمزور پڑ جائے گی۔
مصنوعی ذہانت ضرور استعمال کریں لیکن ہر اہم مرحلے پر انسان کو فیصلے کے دائرے میں رکھیں تاکہ وہ اپنا تجربہ، فطری بصیرت اور الہام کو فیصلے کی گفتگو میں شامل کرسکے۔ مصنوعی ذہانت کی تجاویز کو آنکھیں بند کرکے قبول نہ کیا جائے بلکہ ان کی منطق پر سوال اٹھایا جائے اور انسانی علم سے ان کا تقابل لازمی کیا جائے۔ مشاہدات خالص ہوں، سچے ہوں، درست ہوں، حقیقی وقت میں قلمبند کیے گئے ہوں، یعنی ڈیٹا شفاف اور درست ہو تاکہ حقیقت باہر آئے، الجھن یا آلودگی نہیں۔
مصنوعی ذہانت ہمیشہ استعمال کریں، اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، مگر اپنی سوچ کی خودمختاری کبھی نہ چھوڑیں۔ ہماری کہانی، ہمارا درد اور ہمارا انسان ہونا اہم ہے۔ یاد رکھیے، آخری کہانی خود لکھیں اور تشریح انسان کو ہی کرنے دیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل