Monday, June 01, 2026
 

بلوچ خاندانوں کا مسلح تنظیموں اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اپنے رشتہ داروں سے اعلان لاتعلقی

 



غیور بلوچوں نے بھارتی پراکسی تنظیموں میں شامل اپنے ہی گمراہ رشتہ داروں کو عاق کر دیا جس پر فتنۃ الہندوستان کا پروپیگنڈا ناکام ہوگیا۔ لسبیلہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہشتگرد ثانیہ کے والد نے فتنۃ الہندوستان سے بیٹی کے روابط پر لاتعلقی کا بیان جاری کر دیا۔ پنجگور کے شہری نے فتنۃ الہندوستان میں شامل اپنے بھائی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا بھائی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پایا گیا تو خاندان کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔‘‘ گوادر کے رہائشی نے اپنے دہشتگرد بھائی سے دو ٹوک الفاظ میں اعلان لاتعلقی کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر میرے بھائی کا تعلق کسی بھی مسلح تنظیم سے ثابت ہوا تو ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔‘‘ تربت کے شہری نے ریاستی اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا بھائی 6ماہ قبل روزگار کے لیے گھر سے نکلا تھا، اگر وہ کسی مسلح تنظیم سے وابستہ پایا جاتا ہے تو ہم اس کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔‘‘ تربت سے تعلق رکھنے والے ایک اور والد نے اپنے بیٹے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے بیٹے سے اب میرا کوئی تعلق نہیں، وہ گھر سے فرار ہو کر مسلح تنظیموں کے پاس چلا گیا ہے۔‘‘ کوئٹہ کے شہری نے گمراہ بیٹے سے برملا لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے بیٹے سے اب میرا کوئی تعلق نہیں، وہ جہاں بھی ہے میری یہ بات ذہن نشین کر لے۔‘‘ عالمی ماہرین کے مطابق محبِ وطن بلوچوں کے اقدامات پاک فوج کی قربانیوں پر اعتماد اور بھارتی پراکسیز کی مکمل شکست کا اعلان ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ حقیقی بلوچ ہمیشہ پاکستان کی سالمیت، قومی یکجہتی اور علاقائی استحکام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ فتنۃ الہندوستان بلوچ شناخت کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا کر ریاست مخالف سرگرمیوں اور دہشتگردی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ملک دشمن عناصر بلوچستان کی ترقی اور امن کو سبوتاژ کرنے کے لیے بلوچ عوام کو بطور آلۂ کار استعمال کر رہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل