Friday, June 05, 2026
 

آسٹریلیا بونڈی بیچ کا مسلمان ہیرو گرفتار؟ والد پر حملے کے الزام نے سب کو حیران کردیا

 



سڈنی: آسٹریلیا میں گزشتہ سال بونڈی بیچ پر ہونے والے ہولناک حملے کے دوران درجنوں افراد کی جانیں بچانے والے شخص احمد الاحمد پر اپنے والد کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 44 سالہ احمد الاحمد، جو گزشتہ سال ایک مسلح حملہ آور سے بندوق چھین کر ہیرو کے طور پر شہرت حاصل کر چکے تھے، اب ایک نئے قانونی تنازع کا سامنا کر رہے ہیں۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق مارچ 2026 میں سڈنی کے علاقے بینکز ٹاؤن میں ایک گھر میں مبینہ تشدد کے واقعے کی رپورٹ موصول ہوئی تھی۔ تحقیقات کے بعد اسی ہفتے ایک 44 سالہ شخص پر حملے اور تعاقب یا ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس نے معمول کے مطابق ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم آسٹریلوی میڈیا اداروں، جن میں قومی نشریاتی ادارہ اے بی سی بھی شامل ہے، نے رپورٹ کیا ہے کہ مقدمے میں نامزد شخص احمد الاحمد ہیں۔ دوسری جانب احمد الاحمد نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں ’جھوٹی معلومات‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات درست نہیں اور انہیں اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ احمد الاحمد دسمبر 2025 میں اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنے تھے جب انہوں نے بونڈی بیچ پر ہونے والے مہلک حملے کے دوران ایک حملہ آور سے بندوق چھین لی تھی۔ اس حملے میں 15 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جبکہ آسٹریلوی حکام نے اسے یہود مخالف دہشت گرد حملہ قرار دیا تھا۔ احمد الاحمد کی بہادری کو آسٹریلیا بھر میں سراہا گیا تھا۔ انہیں آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز سے ملاقات کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جبکہ ان کی مدد کے لیے قائم کیے گئے فنڈ ریزنگ پروگرام کے ذریعے 10 لاکھ ڈالر سے زائد رقم جمع کی گئی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق احمد الاحمد اس وقت اپنی صحت پر توجہ دے رہے ہیں اور حملے کے دوران بازو پر لگنے والی چوٹوں کے علاج کے لیے مزید سرجری کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس مقدمے کی اگلی سماعت 29 جون کو ہوگی، جہاں عدالت میں الزامات سے متعلق مزید کارروائی کی جائے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل