Saturday, June 06, 2026
 

جنگلات کی اہمیت

 



عید کے دن بلند درجہ حرارت اور قربانی، یہ سب مل کر عام عوام کے لیے انتہائی پریشان کن صورت حال بن کر ابھری۔ لگتا تھا کہ جیسے سورج اور زمین کے درمیان فاصلے گھٹ گئے ہیں۔ ایسا کیا ہے کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے روکا جائے۔ کہا جاتا ہے کہ زمین درختوں کے ذریعے سانس لیتی ہے لیکن ہمارے یہاں زمین کی سانسیں بند کی جا رہی ہیں کیونکہ ملک بھر میں جس تیزی سے جنگلات صاف کیے جا رہے ہیں اس سے تو یہی لگتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں درجہ حرارت زیادہ بھی ہو سکتا ہے زمین پر آگ بھی لگ سکتی ہے۔ اس وقت زمین کا درجہ حرارت پندرہ سینٹی گریڈ ہے۔ زمین کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کے لیے جنگلات بہت اہم ہیں یہ سورج کی شعاعوں کو منعکس کرتے ہیں گویا یہ محافظ بن جاتے ہیں، سورج کی ان تیز شعاعوں کے سامنے تن کر کھڑے ہو جاتے ہیں جب کہ ان کی غیر موجودگی یا کٹاؤ کی صورت میں چٹیل، صاف زمین سورج کی تپش کو زیادہ جذب کرتی ہے یوں گرمی یا درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ درخت جن کے سائے میں مسافر پناہ لینے کھڑے ہوتے ہیں جب کاٹ دیے جاتے ہیں تو مسافروں کے بارے میں ذرا سوچیں، قدرتی عمل بھی اسی سائے کی مانند ہے کہ زمین کی نمی برقرار رکھنے کے لیے درختوں کا سایہ کس قدر اہم ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ پودوں کے پتوں سے ٹرانسپیریشن کے ذریعے خارج ہونے والا پانی بھی ایک مالی کی مانند زمین کو سینچتا رہتا ہے، کیا آپ نے بڑے گھنے درختوں کے نیچے چھوٹے چھوٹے پودوں کو پنپتے نہیں دیکھا۔ جنگلات ہماری زمین، ہمارے ملک کے لیے کس قدر اہم ہیں کہ ایک جانب یہ قدرتی عمل کے تحت ہماری زمین کا درجہ حرارت برقرار رکھتے گرمی کی شدت میں کمی لاتے ہیں تو دوسری جانب ان سے کتنے خزانے ہمارے دسترخوان پر سجاتے اور ضروریات زندگی کے لیے اہم ہیں۔ کیا ہم ان کے وجود کی ضرورت سے انکار کر سکتے ہیں؟ ہرا بھرا سرسبز ملک پیداواری ترقی سے آگے بڑھتا جاتا ہے، برکت کا یہ سلسلہ اگر رواں دواں رہے تو کیا ہی بات ہے کہ اس کے پنپنے اور خیال رکھنا شکران نعمت بھی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم ان نعمتوں کو نظرانداز کرتے اپنے لاکرز گرم کر رہے ہیں۔ جس طرح سندھ اور کے پی کے جنگلات کی کٹائی جاری ہے تو اس طرح محسوس تو ہو رہا ہے کہ ہم کس قدر تیزی سے تنزلی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ محکمہ جنگلات دادو کی غفلت یا سرپرستی کے باعث جس طرح سیتاروڈ، سونا بڑھی، پھلیجی اور دادو کے مضافات کے ہزاروں ایکڑ کے پھیلے صدیوں پرانے جنگلات کا صفایا کیا جا رہا ہے، یہ جرم رات کی تاریکی میں انجام دیا جا رہا ہے کہ لاکھوں قیمتی مالیت کے درخت کٹ چکے اور کہیں غائب ہو چکے ہیں۔ قبضہ مافیا کے ساتھ اب ایک اور بااثر مافیا لکڑی کے حوالے سے ابھر کر سانے آ رہا ہے گو یہ مافیا تو سالوں سے سرگرم ہے لیکن جنگلات کی کٹائی کے مضر اثرات کا ادراک ہونے پر جس ردعمل کا مظاہرہ باشعور لوگوں کی جانب سے ہو رہا ہے وہ ایک فل اسٹاپ کی مانند ہے کہ بس کر دو بہت ہو گیا۔ محکمہ جنگلات کے افسران کی ملی بھگت ہے یا مجبوری کہ ان جنگلات کا صفایا کرکے ہزاروں ایکڑ کی سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ بھی جما لیا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً نوے فیصد جنگلات کاٹے جا چکے ہیں۔ قدرت کے کارخانے میں مداخلت کرتے وہ ظالم تو ویسے بھی مجرم ہی ہیں کہ ان کی نظر جنگلات کی اہمیت پر نہیں بلکہ اس قیمتی لکڑی پر تھی جسے بیچ کر وہ دھن کما سکے لیکن اس پر ستم یہ کہ زمین پر بھی قبضہ۔ کیا اس دھرتی کے سارے جنگلات صاف کر دیے جائیں گے کہ زمین اہم ہے؟ پر کم عقل، ناہنجار یہ نہیں جانتے کہ زمین سوکھی، بیابان اور بنجر ان کی آنے والی نسلوں کے لیے کیا پیغام دے رہی ہے۔ جنگلی حیات جس میں ہزاروں پرندے، جانور اپنے گھر ختم ہو جانے کے باعث یا تو مر گئے ہیں یا ہجرت کر گئے ہیں، یہ چرند پرند نایاب ہیں لیکن ہم انھیں اپنے ہاتھوں اندھیر کر چکے ہیں۔ سندھ کے علاوہ خیبرپختونخوا میں بھی ٹمبر مافیا اور محکمہ جنگلات میں دھن کے چکر میں دوستانہ ظاہر ہوا ہے جس کے باعث جنگلات کی کٹائی کا کام جاری ہے گو پابندیاں عائد کرنے اور کٹی لکڑیاں پکڑنے کا بھی کہا گیا ہے پر رکنے والے تو جیسے سیلاب کی مانند اندھا دھند بڑھتے ہی چلے جا رہے ہی۔ صرف یہی نہیں سیاحتی مقامات جو خیبرپختونخوا کا حسن بھی ہیں انھیں ماند کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں کہ انھیں اس زمین سے صرف نوٹوں کی صورت میں کمائی کرنا ہے۔ مہوڈنڈ جھیل اور کالام جیسے خوب صورت پرفضا مقام پر درختوں کی کٹائی کی ویڈیو عوام الناس نے وائرل کیں تو اوپر والوں کو علم ہوا۔ ظاہر ہے کہ جن ذمے داران کے سپرد یہ کام ہے وہ تو اپنے خزانے بھر رہے ہیں، تو آگے کون یہ اطلاعات پہنچائے کہ جنگلات کٹ رہے ہیں، اس لیے کہ ذمے دار افسران ہی اس مافیا کے ہاتھ ہیں۔ مظفر آباد ہو یا اسلام آباد، کراچی کے پرانے مقامات ہوں یا اندرون سندھ کے صدیوں پرانے درخت یہ شیطانی آنکھیں ان تمام نعمتوں کی ناشکری پر ابھارتے ہیں کہ جس سے بندے مستفید ہوں اب چاہے کپاس کی فصلیں کٹیں یا آم کے باغات اجڑیں۔ ذمے داران کو یہ زمین درکار ہے کہ جس پر وہ اپنی منصوبہ بندی کے تحت سوسائٹیز تعمیر کریں، آبادیاں پھیلائیں، پلاٹ فروخت کریں اور سونے کے انبار جمع کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ وہ نوٹ وہ سونا ان کے حلق میں اٹک جائے لیکن افسوس وہ وقت تو وقت نزاع کا ہوتا ہے۔ بس ایک لمحہ اور پوری زندگی کی ریل گھوم جاتی ہے۔ مادی خزانے تو اس وقت بھی بھرے پرے ہیں، نجانے کتنے قیمتی پلاٹس، نجانے کتنی اراضی، زیورات، بانڈز اور اثاثے کی صورت میں کتنے ہی شیطانی خانے پر دوسرے جہاں میں جانے کے لیے کیا سرمایہ کاری کی۔ کیا نفع کے لیے سوچا یا خسارہ ہی خسارہ ہاتھ میں رہ گیا۔ خدارا! اس ملک و قوم کا نہیں تو انفرادی طور پر اپنے حقیقی خسارے کا ہی سوچ لیں، شاید کہ دلوں میں کچھ تو نرمی اترے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل