Loading
ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو پانچ سے چھ دہائیاں گزار کر اب اپنی زندگی کی بعد دوپہر میں پہنچ چکے ہیں، بعض لوگ اسے اپنی زندگیوں کا بہترین دور سمجھتے ہیں اور بعض لوگ ہر وقت مایوسی اور بیزاری میں مبتلا رہتے ہیں، اس کی وجوہات بہت سادہ لیکن اہم ہیں، آپ نے سنا ہو گا کہ عمر کے سال صرف اعداد ہوتے ہیں ورنہ عمر وہ ہے جو آپ خود محسوس کریں۔
مجھے اس کا تجربہ حال ہی میںاپنے دورۂ چین کے دوران ہوا، ہمارے گروپ میں اسی سال سے زائد عمر کے مرد حضرات بھی تھے اور پچھتر سال سے زائد عمر کی خواتین بھی اور وہ ایک نہیں، درجنوں بار یوں تن تنہا کئی مختلف گروپس کے ساتھ دنیا کے کئی ممالک کی سیر کر چکے ہیں، سب سے پیش پیش اور آگے چلنے والوں کا جذبہ دیدنی اور قابل تقلید تھا۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دور جو کہ زندگی کی شام ہے، وہ لگ بھگ اپنی عمر گزار چکے ہیں اور اب انھیں فقط بیٹھ کر باقی ماندہ وقت گزارنا ہے اور خود کو ذہنی اور جسمانی مشقت میں نہیں ڈالنا ہے، اگر انھوں نے کسی اچھی ملازمت سے ریٹائرمنٹ حاصل کی ہے اور ان کی اچھی پنشن ہے، رہنے کو اپنی چھت ہے اور ملازمین موجود ہیں، اہل وعیال کا ساتھ ہے، بچے اپنی زندگیوں میں سیٹ ہو چکے ہیں تو اب انھیں کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
انھیں اپنے گھر کا بیرونی دروازہ خود کھولنے، پودوں کو پانی دینے، اطلاعی گھنٹی پر باہر جانے، اپنے کپڑے خود الماری سے نکال کر غسل خانے تک لے جانے جیسے کام بھی اپنی توہین لگتے ہیں۔ اپنے کپڑے خود استری کرنا، باورچی خانے تک چلے جانا، کافی یا چائے کا پانی ابال لینا، سالن مائیکرو ویو میں گرم کر لینا شان کے خلاف ہوتے ہیں۔
باہر سے کوئی سودا سلف، سبزی یا گوشت لے آنا، کبھی کبھار اپنی گاڑی خود دھو لینا، کوئی برتن سنک میں پڑے ہوں تو وہ دھو دینا، اپنے بستر کی شکنیں درست کر کے کمبل تہہ کر دینا تو اور بھی ہتک اورتوہین آمیز کام لگتے ہیں۔
جو انسان ان میں سے کچھ بھی نہیں کرتا اس میں اور ایسے شخص میں کیا فرق ہے جو اسپتال کے بستر پر سارا دن بے حرکت پڑا رہتا ہے اور کچھ بھی نہیں کرسکتا، ا س کا سارا کام نرسیں کرتی ہیں اور اس کے پٹھوں کو زندہ اور فعال رکھنے کے لیے اس کی فزیو تھراپی کی جاتی ہے۔
اسی طرح ہر وقت بیٹھے رہنے والے شخص کے پٹھے بھی اینٹھ جاتے ہیں اور ذرا سی حرکت سے جسم میں درد شروع ہو جاتا ہے اور وہ انسان خود کو بیمار سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔
یہ مسئلہ عموماً مردوں کے ساتھ زیادہ ہوتا ہے، عورتوں کی اکثریت پھر بھی چھوٹے موٹے کاموں کے لیے اپنی زندگی میں اس وقت تک فعال یا حرکت میں رہتی ہے جب تک کہ وہ بالکل بستر پر نہ پڑ جائے۔
ان کم فعال لوگوں میں بھی دوطرح کے لوگ ہیں، ایک وہ جو ٹی وی دیکھنے کے شوقین ہوتے ہیں اور دوسرے کتب بینی کے، دونوں ہی اشغال ایسے ہیں کہ ان میں کچھ ذہنی تسکین ہوتی ہے لیکن آج کل جو ایک بیماری اسمارٹ فون نام کی سب کو لگ گئی ہے اس نے تو جسمانی ساخت کا بیڑا غرق کیا ہی ہے، سستی اور کاہلی کے پتلے بنا کر رکھ دیا ہے اور کئی طرح کی ذہنی بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے۔
انسانوں کی دوسری قسم نے عمر کے اس دور کو شام نہیں بلکہ بعد دوپہر سمجھا ہے اور خود کو ادھیڑ عمر نہیں بلکہ جوان سمجھا ہے اور مذاق میں ہی سہی مگر کہتے ہیں کہ ابھی تو وہ جوان ہیں، ابھی ہی تو انھیں فرصت ملی ہے کہ وہ زندگی کو اپنے ڈھب سے گزاریں۔
انھوں نے جوانی میں ملازمت یا کاروبار شروع کرنے سے لے کراس سمے تک کولہو کے بیل کی طرح کام کیا ہے، شادیوں اور بچوں کی ذمے داریوں نے انھیں سر اٹھا کر دائیں بائیں دیکھنے دیا اور نہ ہی اپنے لیے سوچنے کا موقع دیا۔
والدین بڑھاپے کو پہنچے تو ان کی ذمے داری بھی ایسی ہی ہو گئی جیسی کہ اپنے بچوں کے بچپن میں تھی۔ جب والدین اور بچوں کی ذمے داریوں سے فارغ ہوئے ہیں تو یہی بہترین موقع ہے کہ انسان اپنی باقی ماندہ زندگی کے ایک ایک لمحے سے لطف اندوز ہو۔
آپ کو کھانسی یا نزلہ بھی لگ جائے تو آپ کو لگتا ہے کہ بس اسی سے مر جانا ہے، کہیں درد ہو تو ہر کسی کے سامنے کراہتے ہیں۔ نہ بچوں کے پاس ہمارے درد کا علاج ہے اور نہ ان کے بچوں کے پاس، نہ کوئی ہمسایہ ہمارے درد کا درماں ہے اور نہ دوست ہر وقت بسورتے ہوئے دوست کے پاس جانا چاہتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر جیون ساتھی کا ساتھ میسر ہے تو تمام نزلہ عمر بھر کی طرح اسی پر گرتا ہے ورنہ بچے اور ملازمین آپ کے عتاب کا شکار ہوتے ہیں۔ آپ کے معمولات میں ذرا سی تبدیلی بھی بے انتہا خوشی کا باعث بن سکتی ہے۔
آپ اپنے کمفرٹ زون سے نکلیں، چار قدم چلیں، کسی پارک میں چلے جائیں، مسجد میں جا بیٹھیں، کسی مال میں، کسی اسپتال میں، کسی بس اسٹاپ پر، کسی ریلوے اسٹیشن پر یا کسی بھی جگہ انتظار گاہ میں، بیٹھ جائیں، نہ جھولے لینا ضروری ہے، (نماز کا وقت نہ سہی بس یونہی ذرا وقت گزاریں)، نہ مال میں خریداری کرنا، نہ دوا لینا، نہ بس یا ٹرین میں بیٹھنا۔ وہاں بیٹھ کر فقط مشاہدہ کریں، تجربات… مشاہدات کے بطن سے جنم لیتے ہیں۔ ان جگہوں پر لوگوں کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کتنی رنگارنگی اور تنوع پیدا کیا ہے، لوگوں کے چہرے، حلیے، باتیں کرنے کا انداز…
آپ جہاں رہتے ہیں وہاں اپنے ارد گردکی تمام گلیوں میں پیدل چل کر جائیں، دوسرے لوگوں کے گھر دیکھیں، کوئی واقف نام نظر آجائے توگھنٹی بجا کر سلام بھی کریں۔ لوگوں کے گھروں کے لان دیکھیں، ان گلیوں میں چلتے ہوئے آپ کو سو مسائل نظر آئیں گے جن کا ذکر آپ دیگر اہل محلہ سے کریں اور سب لوگ مل کر ان کا حل تلاشیں۔
پارک میں کھیلنے والے بچوں سے باتیں کریں، وہ آپ کو سلام کریں تو تپاک سے انھیں ملیں اور شاباش دیں۔ ان کے شور سے پریشان نہ ہوں، کبھی آپ بھی اس عمر کے بچے تھے اور کبھی آپ کے بچے بھی اس عمر میں ایسی ہی حرکتیں اور شور کرتے تھے۔ آپ کے گھر میں بچوں کی گیند آجائے تو آپ بار بار گھنٹی بجنے سے چڑ جاتے ہیں، کبھی ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں برداشت کرلینا اچھا ہوتا ہے۔
اپنے رشتہ داروں سے رابطہ رکھیں، انھیں کبھی کبھار کال کر کے بات کرلیا کریں، پیغامات باقاعدگی سے بھیجیں۔ کوشش کرکے انھیں ملنے کو چلے جایا کریں، انھیں اپنے گھر آنے کی دعوت دے دیں۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ کسی کے آنے پر آپ ان کی اتنی اچھی تواضع نہیں کرسکتے تو اب کوئی مسئلہ نہیں ہے، بازار سے سب کچھ مل جاتا ہے، مہمانوں کے آنے پر دو چار چیزیں آرڈر کر کے منگوائیں اور ان کی خاطر کرلیں۔ اس وقت آپ میں پھر بھی ہمت ہے کہ آپ اتنا اہتمام کر سکتے ہیں، ان رشتہ داروں اور دوستوں سے رکھے ہوئے رابطے مشکل وقت میں کام آتے ہیں۔ اگر آپ نے لوگوں سے تعلق نہیں رکھا ہے تو مشکل وقت میں آپ ان سے رابطہ بھی نہیں کرسکتے۔
خود کو بوڑھا، مجبور اور کمزور سمجھنا چھوڑ دیں، یقین کریں کہ آپ کی عمر اور صحت بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسی کہ آپ سوچتے ہیں۔
کچھ لوگ پچاس کا سن چھوتے ہی خود کو بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑا پاتے ہیں اور کچھ لوگ اس وقت تک خود کو جوان سمجھتے ہیں جب تک وہ اپنے قدموں پر چل لیتے ہیں اور آج کل کے زمانے میں خوراک اور دوائیں ایسی ہیں کہ پہلے سے معیار زندگی بہت بہتر ہے۔ اپنے محلے کو چھان چکیں تو اپنے شہر اور پھر اپنے ملک کو دیکھیں، اپنی جیب کی سکت کے مطابق جہاں جہاں جا سکتے ہیں جائیں!
اپنے گھر پر یوں ایک صوفے یا پلنگ پر بیٹھے بیٹھے آپ بالکل بے کار ہوجائیں گے۔ جیب میں پیسہ ہے تو اسے خود پر جتنا کرسکیں، خرچ کریں۔ بچوں کی اپنی زندگیاں ہیں اور کیا آپ نے اس عمر تک اپنے والدین سے مالی توقعات رکھیں یا آپ کو میسر تھیں، کیا آپ نے اپنی زندگی کو خود بہتر بنانے کی کاوش نہیں کی اور اس مقام تک پہنچے؟
آپ کو پورا حق ہے کہ اپنے لیے جئیں، بچوں کو وہ شفقت اور پیار اپنی آخری سانس تک دیں جو ان کا حق ہے… باقی آپ کا مال سارا کا سارا ان کا ہو گا جو آپ چھوڑ جائیں گے، جتنازیادہ بھی چھوڑ جائیں، ان کے لیے کم ہی ہو گا، اس لیے اپنی کمائی ہوئی دولت کو اپنے ہاتھ سے اپنے اور دوسروں پر خرچ کریں اور اس سے خوشیاں کشید کریں۔ اللہ سب کو صحت، ہمت اور آسانیاں عطا فرمائے، آمین!
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل