Loading
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان کا کہنا ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی پاکستان میں آمد ملک کی معاشی صلاحیت، صنعتی استعداد اور سرمایہ کاری کے ماحول پر عالمی اعتماد کا واضح اظہار ہے۔
اسلام آباد سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایئرلنک کمیونیکیشن لمیٹڈ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام، سفارتی برادری کے ارکان، کاروباری شخصیات، صنعت کے نمائندوں اور ٹیکنالوجی و مینوفیکچرنگ شعبوں سے وابستہ اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ ہائسنس کی پاکستان آمد عالمی برادری کو یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ پاکستان صرف صارفین کی منڈی نہیں بلکہ پیداوار، جدت، کاروباری سرگرمیوں اور صنعتی ترقی کا ابھرتا ہوا مرکز ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہائسنس اور ایئرلنک کے درمیان شراکت داری صنعتی تعاون کا ایک نیا ماڈل پیش کرتی ہے جو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی، مقامی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت، پاکستانی افرادی قوت کی مہارت اور دیرپا معاشی ترقی کے مشترکہ وژن کو یکجا کرتی ہے۔
انہوں نے ایئرلنک کمیونیکیشن لمیٹڈ اور ہائسنس کو اس اہم کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اشتراک پاکستان میں صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں نمایاں کردار ادا کرے گامعاونِ خصوصی نے اس بات پر زور دیا کہ قومیں صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ اسے تیار کرنے، جدت پیدا کرنے اور برآمد کرنے سے پائیدار خوشحالی حاصل کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان ایک جامع معاشی اور صنعتی تبدیلی کے پروگرام پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد معیشت کو زیادہ پیداواری، مسابقتی، برآمدات پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ ہائسنس اور ایئرلنک کا اشتراک اسی وژن کا عملی مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری ٹیکنالوجی کی منتقلی، مہارتوں کی ترقی، صنعتی اپ گریڈیشن اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگی جبکہ پاکستان پر بطور مینوفیکچرنگ مرکز اعتماد کو مزید مضبوط کرے گی۔
سندر اسپیشل اکنامک زون میں ایئرلنک کی جدید ترین مینوفیکچرنگ سہولت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستانی کاروباری صلاحیتوں اور جدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق ایسی سہولیات محض فیکٹریاں نہیں بلکہ معاشی ترقی کے انجن، جدت کے مراکز اور ہنرمند افرادی قوت کی تربیت کے پلیٹ فارم ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مقامی سطح پر تیار ہونے والا ہر ٹیلی ویژن اور ہر ایئر کنڈیشنر درآمدات میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر کے تحفظ، صنعتی استعداد میں اضافے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
معاونِ خصوصی نے مقامی مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اصلاحات اور کاروبار دوست پالیسیوں کے ذریعے صنعتوں کی بھرپور معاونت کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نیشنل انڈسٹریل پالیسی صنعتی مسابقت بڑھانے، سرمایہ کاری کے فروغ، ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ اور برآمدات میں اضافے پر مرکوز ہے جبکہ نیشنل ٹیرف پالیسی کے ذریعے ٹیرف کو معقول بنایا جا رہا ہے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور سرمایہ کاروں کے لیے قابلِ پیش گوئی کاروباری ماحول فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے ریگولیٹری اقدام کے تحت غیر ضروری ضوابط کا خاتمہ، طریقہ کار کی سادگی اور بیوروکریٹک رکاوٹوں میں کمی لائی جا رہی ہے تاکہ کاروبار کرنا مزید آسان بنایا جا سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کاروبار، جدت اور سرمایہ کاری کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے اور حکومت سرمایہ کاری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ ہائسنس اور ایئرلنک کی شراکت داری دوطرفہ تعلقات کے اس نئے مرحلے کی عکاس ہے جو صنعتی تعاون، مینوفیکچرنگ میں مہارت، ٹیکنالوجی کی ترقی اور کاروبار سے کاروبار کے روابط پر مبنی ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان گہرا صنعتی تعاون مشترکہ خوشحالی اور پائیدار ترقی کا باعث بنے گامعاونِ خصوصی نے ایئرلنک کی جامع ترقی کے عزم کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ کمپنی 2,500 سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے جن میں خواتین کی نمایاں تعداد شامل ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل