Saturday, June 06, 2026
 

بھارت کے طالبان سے بڑھتے ہوئے تعلقات

 



آج کل پاکستانی حکومت ایران اور امریکا کے درمیان مصالحت کرانے کے لیے ہمہ تن مصروف ہے۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستان کی کوششوں سے ہی امریکا اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی عمل میں آئی ہے اور اب اس وقت جنگ تو نہیں ہو رہی مگر امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ فائنل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ ایران تو چاہتا ہے کہ امن معاہدہ جلد ہو جائے تاکہ خطے میں جو تشویش پائی جاتی ہے وہ ختم ہو سکے۔ اب ایسے وقت میں جب کہ پاکستان کی پوری توجہ امریکا ایران امن معاہدے پر مرکوز ہے، بھارت نے روسی حکومت کو طالبان کی حربی مدد کرنے کے لیے راضی کر لیا ہے اور خبر یہ ہے کہ روس طالبان کو جلد فضائی دفاعی نظام دینے کے علاوہ میزائل بھی فراہم کرنے والا ہے۔ اس سلسلے میں روس اور افغانستان کے درمیان معاہدہ بھی طے پا چکا ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کے لیے یقینا تشویش ناک ہے اور اب اس نئے خطرے سے بچنے کے لیے حکومت پاکستان کو روسی حکومت سے بات کرنا ضروری ہے۔ افغانستان کا روس سے دفاعی معاہدہ طے ہونے کی خبر افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بڑے فخر سے میڈیا کو دی ہے۔ اس خبر نے کئی سوال اٹھا دیئے ہیں۔ اول تو طالبان حکومت کو تو خود اقوام متحدہ جائزحکومت نہیں مانتی ہے پھر ایسی حکومت سے روس نے کیونکر دفاعی معاہدہ کیا ہے؟ اس معاہدے سے تو طالبان کی ہمت افزائی ہوگی۔ وہ کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور داعش جیسی کئی دہشت گرد تنظیموں کی پہلے سے ہی میزبانی کر رہے ہیں۔ افغانستان کا روس سے دفاعی معاہدہ کرانے میں بھارت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اجیت دوول نے اس معاہدے کو عملی جامہ پہنانے میں اپنی سی پوری کوشش کی ہے۔ اجیت دوول وہ شخص ہے جسے عالمی سطح پر دہشت گردوں کا ہمنوا مانا جاتا ہے۔ وہ مودی سرکار کی ہندوتوا حکومت کا امیج بڑھانے کے لیے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔  اجیت دوول کا جہاں تک تعلق ہے اسے مودی نے خطے میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو ہوا دینے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ وہی پاکستان میں بھی بھارتی دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ اس کے تمام دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات قائم ہیں۔ وہ اس وقت مالی لالچ دے کر بلوچستان اور کے پی میں افغان دہشت گردوں سے پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ افغانستان میں موجود تمام ہی دہشت گرد طالبان سمیت اس کے اشارے پر کام کر رہے ہیں۔ اب اس نے ایک نئے دہشت گردی کے سلسلے کو پروان چڑھانے کے لیے افغانستان کا روس سے دفاعی معاہدہ کرا دیا ہے۔ اس معاہدے کے بعد افغان وزیر خارجہ نے بڑے فخر سے کہا ہے کہ اب روس سے دفاعی معاہدہ ہونے کے بعد پاکستان افغانستان پر فضائی حملے نہیں کر سکے گا، اس لیے کہ روس نے صرف دفاعی نظام ہی نہیں، نئے قسم کے میزائل بھی دینے کو کہا ہے۔ اجیت دوول اس معاہدے سے بہت خوش ہے کہ اب پاکستان طالبان کو ڈرا اور دھمکا نہیں سکے گا اور طالبان پہلے کی طرح پاکستان میں دہشت گردی جاری رکھیں گے۔ دراصل بھارت شروع سے ہی پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں مصروف ہے۔ اس وقت تمام ہی ملک بھارت کی طالبان سے دوستی کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں مگر بھارت پھر بھی طالبان سے تعلقات بڑھا رہا ہے کیونکہ طالبان اس کے منصوبے کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔ بھارت یہ بات جانتے ہوئے کہ امریکا بھی طالبان کو واضح طور پر دہشت گرد ٹھہراتا ہے پھر بھی ان سے صرف پاکستان دشمنی میں تعلقات بڑھا رہا ہے۔ طالبان حکومت کے رحم و کرم پر پھلنے پھولنے والی کئی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان سے لے کر وسط ایشیائی ممالک تک دہشت گردی میں مصروف ہیں۔ پاکستانی حکومت نے طالبان کو بار بار مطلع کیا کہ وہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے وغیرہ سے اپنا ناتا توڑ لے مگر طالبان نیان تنظیموں سے مزید قریبی تعلقات استوار کر لیے ہیں۔ ایک وقت تھا بھارت طالبان کو کھلم کھلا دہشت گرد تنظیم کہتا تھا مگر اب تو وہ طالبان حکومت کی مالی مدد بھی کر رہا ہے، اس لیے کہ وہ پاکستان میں مسلسل دہشت گردی میں مصروف ہیں۔ پاکستان ان کی دہشت گردی سے تنگ آ کر پاک افغان سرحد پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کر رہا ہے مگر چونکہ دہشت گرد اندرون افغانستان بھی موجود ہیں چنانچہ اسے وہاں بھی حملے کرنا پڑ رہے ہیں۔ ان حملوں پر اقوام متحدہ سمیت کسی ملک نے اعتراض نہیں کیا ہے البتہ بھارت افغانستانکی طرف داری کر رہا ہے اور اب تو اس نے طالبان اور روسی حکومت میں دفاعی معاہدہ بھی کرا دیا ہے تاہم روسی حکومت نے کہا ہے کہ اس نے طالبان کو اجازت دے دی ہے کہ روس افغانستان پر قبضے کے وقت وہاں جو ہتھیار چھوڑ آیا تھا وہ طالبان مرمت کرا کے استعمال کر سکتے ہیں البتہ طالبان کو کوئی نیا حربی سامان نہیں دیا جا رہا ہے مگر بھارت اور طالبان حکومت روس سے دفاعی معاہدے کے تحت فضائی دفاعی نظام اور نئے قسم کے میزائل افغانستان کو فراہم کرنے کی خبر دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کو روسی حکومت سے بات کرنا چاہیے کہ طالبان برسوں سے پاکستان میں دہشت گردی میں مصروف ہیں اور بھارت ان کی پشت پناہی کر رہا ہے تو روس کو طالبان کی کسی بھی قسم کی فوجی مدد نہیں کرنا چاہیے اور اگر روسی حکومت بھارت کو خوش کرنے کے لیے ایسا کرنا چاہے تو چین سے رجوع کرکے روس کو طالبان کی مدد کرنے سے روکا جائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل