Wednesday, June 10, 2026
 

امن کی کوششیں

 



ہمارے وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے اپنے ہم منصب سکندر مومنی سے ملنے گئے اور انھوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پیغام دیا۔ ایران نے فیلڈ مارشل کی امن کی کوششوں کو بہت سراہا اور اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ امریکی صدر ٹرمپ بھی اس حوالے سے کئی بار فیلڈ مارشل کی تعریف کر چکے ہیں اور یہ پیارے پاکستان کے لئے بہت خوش آئند بات ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ چند دنوں میں ہو سکتا ہے۔ اب تھوڑی سی بات پاکستان کی سیاست پر کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اور تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے اس پر دکھ کا اظہار کیا ہے کہ ان کی جماعت کو کارنر کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف حالت یہ ہے کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں بہت سے پریشر گروپ پیدا ہو چکے ہیں۔ انھیں کس نام سے پکاریں۔ زہرا نگار ؔ کا ایک شعر نذر قارئین ہے۔ تم نے بات کہہ ڈالی ،کوئی بھی نہ پہچانا ہم نے بات سوچی تھی ،بن گئے ہیں افسانے یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ زندگی سپنوں کے نام پر نہیں چلتی۔ یہ بھی دیکھا ہے کہ سپنے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ درست ہے کہیں خوشی ہوتی ہے کہیں غم۔ کہیں غیر ہوتے ہیں اور کہیں اپنے صنم۔ زندگی اسی طرح نہیں چلتی۔ صنم بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور روٹھ جاتے ہیں۔ یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ کہیں چمن ہوتا ہے تو کہیں لگن ہوتی ہے۔ کبھی کبھار آنکھوں میں درد ہوتا ہے، غصہ ہوتا ہے اور سوال بھی جنم لینے لگتے ہیں۔ آنکھوں میں اندھیرے کا مطلب یہ نہیں کہ رات اور اندھیری ہو گئی ہے۔ اس کی صبح ہر صورت ہوتی ہے۔ مجھے کہہ لینے دیجیے یاد اور فریاد کا بھی ایک سنگم ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ سنگم میں کبھی اپنوں کا تو کبھی سپنوں کو ملن بھی ہو جاتا ہے۔ بات صرف نصیب نصیب کی ہوتی ہے۔ نصیب کس وقت جاگ جائے کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ ہم رقیب کا بھی ذکر کریں گے۔ یہ بھی دیکھا ہے کہ بہت سے اپنوں سے بھی زیادہ پیارے لگتے ہیں۔ قابل ؔاجمیری نے کیا خوب کہا ہے۔ نہ جانے زندگی کیسے گزر گئی اے دوست کہیں ٹھہر کے ترا انتظار بھی نہ کیا پیارے پاکستان کی سیاست کی ’’کاشت‘‘ کے لئے لندن سے زرخیز زمین شاید ہی کوئی اور ہو۔67برس قبل تک وہی ہمارے حکمران تھے۔ اُن کے بعد ہمارے یہاں حکومت سازی کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک بازی کھیلی گئی ۔اسی لئے آج بھی انگریزکے دنوں کی یاد ستاتی ہے ۔بزرگوں کی تو سمجھ آتی ہے ۔وہ تو اس کے چشم دید رہے لیکن نوجوان نسل نے بھی اس اثاثے کو اپنے ذہن پر سوار کر رکھا ہے ۔بہت سی کہانیاں صرف باتوں کی حد تک ہوتی ہیں ۔کسی ایک منہ سے نکلی ،زباں زد عام ہو گئیں۔ ایک دن وہ بھی سچ کا درجہ پاجاتی ہیں ۔ویسے بھی گزرا وقت اچھا لگتا ہے۔اصل میں اُس کے تلخ ایام اُس کے ساتھ ہی جا چکے ہوتے ہیں ۔اُن دنوں کی چھوٹی سی چھوٹی خوشی بھی جیسے ہمالیہ کی چوٹی پر چڑھی دکھائی دیتی ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ماضی کو یاد کرنے سے آدمی کا آج ریفریش ہوجاتاہے ۔اس کے آنے کل پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔البتہ ہر قدم پر احتیاط کی ضرورت ہے ۔بہ قول عیش ؔبرنی ۔ قدم قدم پر یہاں احتیاط لازم ہے کہ منتظر ہے یہ دنیا کسی بہانے کی کسی کے ہاتھ کوئی بہانہ لگ جائے پھر اُس کے بعد …افسانے پر افسانہ ۔ان میں کوئی ایک بھی سچی کہانی کا درجہ پاگیا تو پھراُس کے وارے نیارے ۔ بروقت فیصلوں سے بڑے بڑوں کاوقت قصۂ پارینہ بنتا رہا ہے ۔اُن کی پارٹی میں اس بات پر اتفاق ہے کہ جمہوری سفر چلتا رہنا چاہیے ۔ ہمارے نزدیک سیاسی جماعتوں کا ایک بڑ ا المیہ یہ کہ اُس کی لیڈر شپ اُسے گھر کی بجائے کرائے کا مکان سمجھتی ہے۔ہماری اپنوں کی ماری سیاست کو اس دُعا کی شدید ضرورت ہے۔سیاست میں کوئی بات حتمی نہیں کہی جا سکتی ۔ کس وقت اس کا موسم بدل جائے۔ افتخار عارف ؔکا ایک شعر بھی نذر ِ قارئین ہے ۔ مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے آج ہم پاکستان کے نامور فلمی ہدایت کار پرویز ملک کا ذکر کرتے ہیں۔ ’’وہ 18 جولائی 1938ء کو اٹک میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پریذینٹیشن کالج راولپنڈی اور میری کلاسو اسکول کراچی سے حاصل کی جہاں وحید مراد، ان کے کلاس فیلو تھے۔ وحید مراد کے والد نثار مراد پاکستان کے مشہور فلمی تقسیم کار تھے۔ ان کے گھر آنے جانے سے پرویز ملک کو فلموں سے دلچسپی پیدا ہوئی اور وہ 1959ء میں امریکا چلے گئے جہاں انھوں نے یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا سے ایم اے سینما کا کورس مکمل کیا اور 1963ء میں وطن واپس آگئے۔ اس وقت تک وحید مراد اپنے فلم ساز ادارے فلم آرٹس کے تحت دو فلمیں ’’انسان بدلتا ہے‘‘ اور ’’جب سے دیکھا ہے تمہیں‘‘ بنا چکے تھے۔ اس کے علاوہ بطور اداکار وحید مراد کی دو فلمیں ’’ساتھی ‘‘ اور ’’اولاد‘‘ بھی نمائش پذیر ہو چکی تھیں۔ پرویز ملک کے وطن واپس آنے کے بعد وحید مراد نے ان کے ساتھ فلم ’’ہیرا اور پتھر‘‘ بنانے کی منصوبہ بندی کی اور نغمہ نگارمسرور انور اور موسیقار سہیل رعنا کو ان سے متعارف کرایا۔ ان چاروں باصلاحیت افراد کے یکجا ہونے سے فلم آرٹس کی پہلی فلم ’’ہیرا اور پتھر‘‘ وجود میں آئی جو بے حد کامیاب رہی۔ پرویز ملک اس فلم کے ہدایت کار تھے اس کے بعد انھوں نے فلم آرٹس کے بینر تلے کئی یادگار فلمیں تخلیق کیں جن میں ’’ارمان، احسان اور دوراہا ‘‘ کے نام سرفہرست ہیں۔ پرویز ملک نے مجموعی طور پر 26 فلمیں بنائیں جن میں سے 5 فلموں ’’انمول، پہچان، تلاش، ہم دونوں، قربانی‘‘ نے ڈائمنڈ جوبلی منائی۔ دو فلموں ارمان اور پاکیزہ نے پلاٹینم جوبلی، 10 فلموں ’’ہیرا اور پتھر، میرے ہمسفر، دشمن، سچائی، مہمان، انتخاب، رشتہ، مہربانی، کامیابی اور ہلچل‘‘ نے گولڈن جوبلی اور 7 فلموں ’’احسان، دوراہا، جہاں تم وہاں ہم، سوغات، گمنام، زنجیر اور غریبوں کا بادشاہ‘‘ نے سلور جوبلی مکمل کی۔ ان کی صرف دو فلمیں ’’اسے دیکھا اسے چاہا اور شہزادہ‘‘ ناکام ہوئیں۔ شہزادہ کی ناکامی کے بعد وہ فلمی دنیا سے کنارہ کش ہوگئے تھے اور انھوں نے ٹی وی ڈرامہ سیریلز بنانے شروع کر دیے تھے۔ پرویز ملک ان چند ہدایت کاروں میں سے ایک تھے جو فلم کو ’’آرٹ‘‘ سمجھتے تھے۔ وہ ایک ہی وقت میں ایک ہی فلم کی ہدایات دینے کے اصول پر یقین رکھتے تھے۔ وہ سال بھر میں ایک سے زیادہ فلمیں نہیں بناتے تھے، شاید اسی لئے ان کی اکثر فلموں کا شمار سال کی بہترین فلموں میں ہوتا تھا۔ پرویز ملک کی فلمیں اسٹار ویلیو پر نہیں بکتی تھیں ان کی فلم کی شناخت یہ ہوتی تھی کہ اس کے ہدایت کار وہ خود ہیں۔ پرویز ملک پاکستان کے پہلے فلمی ہدایت کار تھے جنھیں حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ پرویز ملک 18 نومبر 2008ء کو اسلام آباد میں وفات پا گئے ‘‘۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل