Loading
عوامی حقوق کی آڑ میں اشتعال انگیزی، بدامنی اور تشدد کے الزامات کے تناظر میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ سردار امان کی ساتھیوں کے ہمراہ ممنوعہ اسلحہ کے ساتھ تصویر سامنے آ گئی ہے۔
عوامی حقوق کے نام پر سرگرم کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حقیقی مقاصد سے متعلق نئے شواہد سامنے آنے کے بعد اس تنظیم کے کردار پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ سردار امان کی ساتھیوں کے ہمراہ ممنوعہ اسلحہ کے ساتھ تصویر منظرعام پر آگئی ۔
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کی تصاویر پہلے بھی منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جو حالیہ واقعات کے پسِ پردہ منظم منصوبہ بندی کے تاثر کو مزید تقویت دیتی ہیں۔ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کےعوامی حقوق کامطالبہ محض ایک دکھاوا ہے جبکہ ان کا اصل مقصد شروع سےہی اشتعال انگیزی اور عدم استحکام فروغ تھا۔ابتدا سے ہی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ شوکت، سردارامان اور دیگر نے اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے عوام کو تشدد پراکسایا۔انہی اشتعال انگیز بیانات اور پیشگی منصوبہ بندی کے تحت راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کےمسلح جتھوں نے پرتشدد حملےکیے۔
ماہرین کےمطابق یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ بھارتی پشت پناہی پر ایک مکمل منصوبہ بندی کے تحت عدم استحکام پھیلانے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔راولاکوٹ اور دیگر شہروں میں پرتشدد واقعات اورسرغنہ کی منظرعام پر آنے والی تصویر واضح کرتی ہے کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مقصد بدامنی اور تشدد کو فروغ دینا ہے ۔ ممنوعہ ہتھیاروں کے ساتھ تصویر واضح کرتی ہیں کہ پرتشدد واقعات اچانک رونما نہیں ہوئےبلکہ ایک جامع اورمنظم منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے تحت کیے گئے۔
عوامی مطالبہ ہے کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور بدامنی پھیلانے میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔
ممنوعہ ہتھیاروں کے ساتھ تصویر واضح کرتی ہیں کہ پرتشدد واقعات اچانک رونما نہیں ہوئےبلکہ ایک جامع اورمنظم منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے تحت کیے گئے، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور بدامنی پھیلانے میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل