Loading
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور سربراہ مذاکرات کمیٹی محمد باقر قالیباف نے گزشتہ برس کی 12 روزہ جنگ کے ایک سال مکمل ہونے پر کہا کہ اپنے شہدا کے مشن کو جاری رکھیں گے اور کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق باقر قالیباف نے اپنے بیان میں شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا نے گزشتہ برس 12 روزہ جنگ کے دوران بھی معصوم بچوں تک کو قتل کیا اور کسی جرم یا ظلم سے گریز نہیں کیا۔ یہ کیسی بہادری تھی جو نہتے بچوں پر دکھائی گئی۔
ایرانی رہنما نے مزید کہا کہ پم اپنے شہدا کی قربانیوں سے حوصلہ حاصل کرتے ہوئے ملک کی سربلندی اور حتمی فتح تک اپنے موقف پر قائم رہیں گے اور کبھی اپنی منزل یا مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے حزب اللہ اور حماس کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکا کی مدد سے ایران پر گزشتہ برس جون میں شدید حملے کیے تھے جس میں ملکی ایٹمی سائنسدانوں، اہم کمانڈرز اور سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا۔
محمد باقر قالیباف امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی وفد کے سربراہ بھی ہیں لیکن وہ متعدد بار یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ اب ایران ’جنگ، جنگ بندی اور پھر جنگ‘ کے میوزیکل چیئر گیم کو ختم کرنا چاہتا ہے۔
انھوں نے ایک اور بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو ایرانی مسلح افواج فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ہماری حکمت عملی جنگ اور سفارت کاری کو بیک وقت آگے بڑھانا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل