Sunday, June 14, 2026
 

وزیراعلیٰ سندھ نو تعمیر شدہ عظیم پورہ فلائی اوور کا افتتاح کر دیا

 



وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اتوار کے روز نو تعمیر شدہ عظیم پورہ فلائی اوور کا افتتاح کر دیا۔ یہ اہم شہری انفراسٹرکچر منصوبہ شاہراہِ بھٹو، شاہ فیصل کالونی، شاہراہِ فیصل اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے درمیان ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے تعمیر کیا گیا ہے۔  وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عظیم پورہ پل کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ سندھ نے کراچی اور صوبے کے دیگر علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گزشتہ چار سے چھ ماہ کے دوران حکومت نے متعدد بڑے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا ہے، جن میں شاہراہِ بھٹو، کورنگی کاز وے پل، بھینس کالونی پل، مینا بازار منصوبہ اور دیگر اہم اسکیمیں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ کراچی کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے پُرعزم ہے اور شہر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی ایک وقت میں ایسی جماعت کے حوالے کر دیا گیا تھا جو صرف لڑائی جھگڑا کرنا جانتی تھی اور آج اس جماعت کے رہنما آپس میں ہی لڑنے میں مصروف ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے آج انہیں فون کر کے عظیم پورہ پل کے افتتاح کے  حوالےسے دریافت کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت مسلسل کراچی کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہدایات جاری کرتی رہتی ہے۔ماضی میں وفاقی حکومت کے اعلانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک سابق وزیرِاعظم (پی ٹی آئی) کراچی آئے تھے اور اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا  مگر ان منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے کوئی فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے حکومتِ سندھ کو وفاقی حکومت سے 64 ارب روپے درکار تھے اور اب یہ رقوم وفاقی بجٹ میں شامل کر دی گئی ہیں۔پانی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام دریاؤں میں پانی کی مناسب مقدار موجود ہے، تاہم دریائے سندھ میں پانی کی کمی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پانی آخر جا کہاں رہا ہے۔ انہوں نے  مزید کہا کہ اس معاملے پر وزیراعظم کو خط لکھ چکا ہوں اور اب یہ مسئلہ حل کی جانب بڑھ رہا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے سکھر۔حیدرآباد موٹروے منصوبے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے 30 ارب روپے مختص کیے جانے کا خیرمقدم کیا۔تاہم انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت نے واپڈا کو موجودہ مالی سال کے دوران کے-فور منصوبہ مکمل کرنے کے لیے مطلوبہ فنڈز فراہم نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے حکومتِ سندھ اپنے وسائل اور ڈونر ایجنسیوں کے تعاون سے کے-فور آگمینٹیشن منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔شاہراہِ بھٹو پر ہونے والی تنقید کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ اس منصوبے پر تنقید کرنے والوں کو پہلے اپنے اندرونی اختلافات حل کرنے چاہییں۔انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کی سہولت اور سڑکوں پر حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے متعدد پیدل چلنے والوں کے پل (پیڈسٹرین برجز) پہلے ہی تعمیر کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید پل بھی تعمیر کیے جائیں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل