Sunday, June 14, 2026
 

ٹرمپ کا ایران معاہدہ متنازع بن گیا، ڈیموکریٹس نے اسے ’ہتھیار ڈالنے کی دستاویز‘ قرار دے دیا

 



واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان متوقع امن معاہدے پر امریکی ڈیموکریٹ رہنماؤں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈم شف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، وہ امید کرتے ہیں کہ یہ بات درست ہو، تاہم ماضی میں بھی ایسے متعدد وعدے کیے گئے جو بعد میں پورے نہ ہو سکے۔ ایڈم شف نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے نئی جنگوں کا آغاز کیا لیکن امریکی عوام کے لیے اخراجات میں کوئی کمی نہیں لا سکی۔ ان کے مطابق اس پالیسی نے امریکی شہریوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹ رکن کانگریس سیٹھ مولٹن نے مجوزہ ایران معاہدے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’سرنڈر ڈاکیومنٹ‘ یعنی ہتھیار ڈالنے کی دستاویز قرار دیا۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں سیٹھ مولٹن کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی خراب معاہدہ ہے جو دراصل ایران کی قیادت کے سامنے امریکی پسپائی کے مترادف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ پر امریکی ٹیکس دہندگان کے تقریباً 100 ارب ڈالر خرچ ہوئے، 14 امریکی شہری جان سے گئے، لیکن اس کے باوجود حاصل ہونے والا نتیجہ انتہائی محدود ہے۔ مولٹن کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت صرف آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ یہ راستہ جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی کھلا ہوا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حاصل ہونے والا نتیجہ یہی ہے تو پھر اسے کامیابی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ امریکی سیاسی حلقوں میں مجوزہ ایران معاہدے پر بحث تیز ہوتی جا رہی ہے، جہاں ایک جانب ٹرمپ انتظامیہ اسے امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے، وہیں اپوزیشن رہنما اسے امریکی مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل