Monday, June 15, 2026
 

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں پر سخت ایکشن کا حکم

 



وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں گندم خریداری، ذخائر اور قیمتوں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ، وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان، وزیر آبپاشی جام خان شورو، مشیر وزیراعلیٰ گیانچند اسرانی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ سمیت متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ذخائر کی ریئل ٹائم نگرانی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو مصنوعی قلت اور قیمتوں میں ہیرا پھیری کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ میں گندم خریداری کا عمل یکم اپریل 2026 سے شروع کیا گیا جبکہ امدادی قیمت 3500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی گئی ہے۔ 50 کلوگرام کی بوری پر 60 روپے بار دانہ ادائیگی کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ بریفنگ کے مطابق اب تک 81 ہزار 348 میٹرک ٹن گندم خریدی جا چکی ہے جبکہ ایک ملین میٹرک ٹن خریداری کا ہدف مقرر تھا۔ صوبے میں نجی شعبے کے پاس 5 لاکھ 88 ہزار 512 میٹرک ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں۔ شہر وار تفصیلات کے مطابق کراچی میں 1 لاکھ 59 ہزار 577، سکھر میں 2 لاکھ 19 ہزار 760، لاڑکانہ میں 1 لاکھ 41 ہزار 284، حیدرآباد میں 39 ہزار 244، میرپورخاص میں 4 ہزار 676 جبکہ شہید بینظیر آباد میں 23 ہزار 971 میٹرک ٹن گندم ذخیرہ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری ہدف سے کم ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی کہ 1 لاکھ 77 ہزار 40 میٹرک ٹن مقامی گندم مزید خریدی جائے جبکہ 2 لاکھ ٹن گندم پاسکو سے حاصل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گندم کے سرکاری ذخائر بڑھانے کے لیے پاسکو سے خریداری کا عمل تیز کیا جائے اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ آبادگاروں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے اور آٹے کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا جبکہ منصفانہ مارکیٹ نظام کے قیام کے لیے سخت نگرانی کی جائے گی۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ گندم کے وافر ذخائر کو یقینی بنا کر عوامی مفادات کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل