Loading
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ فرانس اور برطانیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے قائم مشترکہ فوجی مشن مکمل طور پر تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر فوری طور پر تعینات کیا جا سکتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق میکرون کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے اور ممکنہ امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کی کوششیں جاری ہیں۔
فرانسیسی صدر، جو جلد ہی جی سیون اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ہیں، انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ فرانس اور برطانیہ کے مشترکہ مشن کے تمام ضروری وسائل اور عسکری اثاثے اپنی جگہ موجود ہیں اور تعیناتی کے لیے تیار ہیں۔
میکرون نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی مکمل بحالی، بغیر کسی رکاوٹ اور اضافی فیس یا ٹول کے، خطے کے استحکام اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
Je salue l’accord conclu entre les États-Unis et l’Iran, fruit d’un effort diplomatique auquel ont contribué plusieurs partenaires. J’appelle à sa mise en œuvre rapide et complète par tous les belligérants.
Cet accord doit permettre la réouverture urgente et inconditionnelle…
— Emmanuel Macron (@EmmanuelMacron) June 14, 2026
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، اس لیے اس اہم بحری گزرگاہ کا کھلا رہنا عالمی اقتصادی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری سرگرمیاں بحال ہونے سے عالمی منڈیوں، خصوصاً تیل کی قیمتوں، پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اور حالیہ کشیدگی کے دوران اس کی بندش نے عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل