Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ فوجی کشیدگی کے دوران چین اور روس نے ایسا کوئی عملی اقدام نہیں کیا جس سے تنازع مزید شدت اختیار کرتا جو قابل تعریف ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر شی جنپنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جنگ کے دوران براہِ راست مداخلت سے گریز کیا جس سے امریکا کی سفارتی اور فوجی کوششوں کو پیچیدگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر چین یا روس نے ایران کی عسکری معاونت کی ہوتی تو خطے کی صورتحال کہیں زیادہ سنگین ہوسکتی تھی تاہم ایسا نہیں ہوا اور اس پر وہ دونوں رہنماؤں کے شکر گزار ہیں۔
امریکی صدر نے اس موقع پر اپنے بعض روایتی اتحادیوں پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ اور جاپان نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور خطے میں استحکام کے لیے امریکا کی توقعات کے مطابق کردار ادا نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ روس اور چین کو طویل عرصے سے ایران کے قریبی سفارتی اور اقتصادی شراکت دار تصور کیا جاتا ہے۔
اگرچہ جنگ کے دوران دونوں ممالک نے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا، تاہم انہوں نے براہِ راست عسکری مداخلت سے گریز کیا۔
دوسری جانب چین نے کئی مواقع پر ایران پر امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تحمل اور سفارتی حل پر زور دیا جبکہ روس نے خبردار کیا تھا کہ جنگ میں مزید شدت مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا سبب بن سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل