Loading
اسلام آباد میں ایک سیکیورٹی بریفنگ منعقد ہوئی ہے۔ جس میں اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے ملک کے اہم صحافیوں کو ملک کو درپیش اہم قومی اور بین الاقوامی مسائل پر بریفنگ دی ۔ اس سے قبل اس اہم بریفنگ کے مندرجات آپ کے سامنے رکھوں میں ایک بات لکھنا چاہتا ہوں۔ آج کل کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی بہت بات کی جا رہی ہے۔ ہمیں اس احتجاج پر بات کرنے سے پہلے علی گیلانی کی شخصیت کو سامنے رکھنا چاہیے۔
وہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کی بندوقوں کے سامنے کھڑے ہو کر نعرہ لگاتے تھے کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔ اس نعرہ کی قیمت میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے تھے۔ لیکن پھر یہی نعرہ لگاتے تھے کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔اس لیے ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ مقبوضہ کشمیر کی آواز بھی یہی ہے۔ اس لیے کالعدم ایکشن کمیٹی بھارتی ایجنڈا اور بھارت کی آواز ہی بول رہی ہے۔ اس کو سامنے رکھنا ہوگا۔
بہرحال اس اہم سیکیورٹی بریفنگ میں اس بات کو واضح کیا گیا کہ پاک فوج اور ریاست پاکستان کا واضح موقف ہے کہ کشمیر تکمیلِ پاکستان کا نامکمل حصہ ہے۔ 1948 میں لڑی جانے والی جنگ پاکستانی فوج، کشمیریوں اور قبائل نے مل کر لڑی ۔کشمیر پر اب تک 5 جنگیں ہوچکی ہیں۔ جس میں پاک فوج نے ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ اس لیے اس سیکیورٹی بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ ’ کشمیر بنے گا پاکستان اور ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے ‘ ، جیسے نعرے پاکستانیوں اور کشمیریوں کے موقف کے غماز ہیں۔
اہم سیکیورٹی ذمے داران نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی آبادی کے تناسب کو بدلنے کی گھناؤنی سازش کی جا رہی ہے جس کو ہم مسترد کرتے ہیں۔ آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے اور قانونی رخنے وہاں کے مسلمانوں کے حق خود ارادیت کو ختم نہیں کرسکتے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی ہے، وادی کے لوگ اضطراب کا شکار ہیں لیکن وہ اب بھی پوری طرح تیار اور یکسو ہیں کہ کشمیر کا حل بھارت کے پاس نہیں ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں اپنی ناکامی کو چھپانے کی غرض سے بھارت آزاد کشمیر میں آگ لگانے کی کوشش کررہا ہے۔ نام نہاد حقوق کی تحریک کے پیچھے مذموم مقاصد اور اس کا اصل چہرہ اب عیاں ہوچکا ہے۔ بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کی قیادت کی اولین ترجیح ہمیشہ بات چیت اور مذاکرات ہوتے ہیں۔ دو سال سے کشمیر میں مذاکرات کیے گئے جو سہولیات مانگی دی گئیں۔ پاکستان کی حکومت جمہوری ہے اور جو کسی بھی مسئلہ کو سب سے پہلے مذاکرات اور بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
اہم سیکیورٹی ذمے دار نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی شروع میں عوامی مسائل کو لے کر نکلی، ریاست نے اس وقت بھی ان میں چھپے عناصر کو بھانپ لیا تھا اور جانتی تھی کہ یہ بعد ازاں expose ہو جائیں گے۔ آج مظاہرین میں چُھپے کئی کردار اور ان کے اصل مقاصد کُھل کر سامنے آچکے ہیں اور اُن سے قانون کے مطابق ہی نمٹا جائے گا۔ حکومت آزاد جموں وکشمیر نے جمہوری اور مصلحت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کو تمام مراحل میں ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ لیکن یہ مفاہمت ریاست کی کمزوری نہیں طاقت تھی۔ اس کو غلط طور پر کمزوری سمجھا گیا ہے۔
ایک سیکیورٹی ذمے دار نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے ان تمام اقدامات کے برعکس اپنی فطرت کے مطابق تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کا راستہ اپنایا اور عوام کو نفرت انگیز اور اشتعال انگیز اقدامات کی طرف راغب کیا۔ جو آپ سب کے سامنے ہے۔ اس سلسلے میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے فیصلے کو بھی پس پشت ڈالتے ہوئے تشدد کی راہ ترک نہیں کی اور مسلسل ریاست مخالف جذبات کو ابھارا۔ ان کا غیر جمہوری اور پر تشدد رویہ آج سب کے سامنے ہے۔ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آج بھی تحمل اور برداشت سے کام لے رہے ہیں۔
اہم سیکیورٹی ذمے دار نے کہا کہ بارہ سیٹیں آئین اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے منسلک ہیں اور کوئی بھی جتھہ یا مسلح گروہ زور کی بنیاد پر اپنا فیصلہ نہیں منوا سکتا۔ ریاست کو کسی قسم کا ابہام نہیں کہ تشدد اور انتشار کا راستہ اختیار کرنے والوں سے کیسے نمٹا جائے گا۔ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نے دی جا سکتی۔ اگر کوئی نام نہاد حقوق کی جنگ کی آڑ میں بیرونی ایجنڈے پر ریاستی رٹ کو چیلنج کرے گا تو قانون اپنی راہ اختیار کرنے میں حق بجانب ہوگا۔
اس بریفنگ میں دفاعی بجٹ پر بھی تفصیل سے بات ہوئی۔ دفاعی بجٹ بڑھا کر 3 ہزار ارب روپے کر دیا گیا ہے، لیکن مہنگائی کی شرح اس کی حقیقی مالیت کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔ اس مختص کردہ بجٹ کا 80 فیصد سے زائد حصہ لازمی اخراجات کی طرف جاتا ہے، جس میں راشن، Maintenance اور تنخواہیں شامل ہیں۔ یہ لازمی اخراجات واپس ملکی معیشت میں شامل ہو کر اسی کو استحکام فراہم کرتے ہیں۔ ان اخراجات کے بعد فوجی سازو سامان کی خریداری ، ترقیاتی منصوبوں اور سپاہ کی استعداد بڑھانے کے لیے ایک محدود حصہ ہی باقی بچتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
بھارت کے دفاعی بجٹ کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے اہم سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ بھارت کا دفاعی بجٹ 90 بلین ڈالر سے زائد ہے، جو پاکستان کے دفاعی بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے ۔ پاکستان کی افواج بیک وقت روایتی، تکنیکی اور دہشتگردی کی جنگ لڑ رہی ہیں اور اس کی تیاری میں مصروف ہیں۔ مستقبل کی جنگ تکنیکی استعداد میں بہتری کی متقاضی ہے جب کہ انسداد دہشتگردی کی جنگ میں افرادی قوت پر انحصار بھی ہے ۔ کثیر الجہتی آپریشنل صلاحیت کے پیش نظر دفاعی بجٹ میں کیا جانے والا اضافہ مستقبل کی سیکیورٹی اور عسکری ضروریات کی وجہ سے ہے ۔ ملک کی فوجی قیادت کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضرورت زیادہ بھی ہو تو کوئی مسئلہ نہیں ، آپ کی افواج دفاع وطن کے لیے فخر کے ساتھ ہمہ وقت تیار ہیں۔
اس اہم بریفنگ میں افغانستان اور سیکیورٹی کے حوالے سے بھی تفصیل سے بات ہوئی۔ سیکیورٹی عہدیدار کی جانب سے کہا گیا کہ دورِ حاضر میں افغانستان اور دہشت گردی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہو چکے ہیں۔ ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کی سرکوبی کے لیے مجموعی طور پر رواں سال 32092 آپریشنز کیے ۔
افغان طالبان رجیم کی سرپرستی اور تعاون سے دہشتگردی کے 2170 واقعات ہوئے ، جس میں 1861دہشت گرد جہنم واصل ہوئے اور ارض پاک کے 640 بہادر سپوتوں نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کیے ۔ انسدادِ دہشتگردی کی اس جنگ کے اعداد و شمار اس امر کے عکاس ہیں کہ افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں پنپنے والے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کس طرح پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں ۔
اہم سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ہمارا سفارتی رابطہ مکمل طور پر شفاف، باضابطہ اور ہمارے اس بنیادی مطالبے پر مبنی ہے کہ دہشت گردی کی سرپرستی فوری بند کی جائے۔ افغانستان کی حدود میں کیے جانے والے تمام فضائی و عسکری حملے انتہائی درستگی اور ٹھوس انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کیے گئے۔طالبان رجیم انسانی حقوق کے لیے کسی قسم کے قابل احترام اور جذبات سے عاری ہے اور ان میں خواتین اور بچوں کے حقوق کا کوئی احترام نہیں ہے۔ دہائیوں پر محیط مسلسل رابطوں کے بعد پاکستان بالآخر اس حتمی نتیجے پر پہنچا ہے کہ طالبان رجیم اسلام کی مسخ شدہ تشریح کے نفاذ کی حامی ہے۔طالبان رجیم کا غیر ذمے دارانہ اور پرتشدد رویہ کسی بھی قسم کے سفارتی یا باہمی رابطے کے امکان کو رد کرتا ہے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل